انوارالعلوم (جلد 7) — Page 590
۵۹۰ باتوں میں سے ایک ضرور اختیار کرنی پڑے گی` یا تو سب نبیوں کا انکار کرنا ہو گا یا حضرت اقدسؑؑ مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کو تسلیم کرنا پڑے گا اور میں اے بادشاہ! آپ جیسے فہیم اور ذکی فرمانروا سے یہی امید کرتا ہوں کہ آپ موخر الذکر طریق کو اختیار کریں گے اور اللہ تعالیٰٰ کے فرستادہ کو جو نبی کریم ﷺکی صداقت کے اظہار اور اسلام کو غالب کرنے اور مسلمان کہلانے والوں کو پھر مسلمان بنانے کے لئے آیا ہے قبول کرنے میں دیر نہیں کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کو قبول کرنا اس کے ارادے کے مطابق بہت سی برکات کا موجب ہوتا ہے اور اس کے منشاء کے خلاف کھڑا ہو جانا کبھی بھی بابرکت نہیں ہوتا- اسلام کی حالت اس وقت قابل رحم ہے اور ممکن نہیں کہ جو شخص اس دین سے سچی محبت رکھتا ہو اس کا دل اس کی حالت کو دیکھ کر اس وقت تک خوش ہو سکے جب تک وہ اس کی کامیابی کے لیے سامان بہم نہ پہنچائے اور اسے ہر قسم کے خطرات سے محفوظ نہ دیکھ لے- دشمن تو اس کی عداوت میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ ان کو اس میں کوئی خوبی ہی نظر نہیں آتی` سر سے پا تک عیب ہی عیب نکالتے ہیں` جو دوست کہلاتے ہیں وہ بھی یا تو دل سے اس سے متنفر ہیں یا اس کی طرف ان کو کوئی توجہ نہیں- اسلام ان کی زبانوں پر ہے مگر حلق سے نیچے نہیں اترتا` ان کی تمام تر توجہ سیاسیات کی طرف ہے اگر کوئی ملک ہاتھ سے نکل جائے تو وہ زمین وآسمان کو سر پر اٹھا لیتے ہیں` لیکن اگر ہزاروں لاکھوں آدمی اسلام کو چھوڑ کر مسیح یا ہندو ہو جائیں تو ان کو کچھ پروا نہیں- دنیاوی مفاد حاصل کرنے کے لیے تو ان میں والنٹیروں کی کوئی کمی نہیں` لیکن اشاعت دین کے لیے ان میں سے ایک بھی باہر نہیں نکلتا- ¶سلطان ترکی کی خلافت کا اگر کوئی منکر ہو تو ان کی تن بدن میں اگ لگ جاتی ہے لیکن رسول کریم ؐکی رسالت کو رد کر دے تو ان کی غیرت جوش میں نہیں آتی اور یہ حالت ان کی دن بدن بڑھتی جاتی ہے- ہندوستان کی تو اب یہ حالت ہے کہ غیر مذاہب کے لوگوں میں تبلیغ کرنا تو دور کی بات ہے ان کی طرف سے اسلام پر جو حملے ہوتے ہیں اگر ان کا بھی جواب دیا جائے تو خود مسلمان کہلانے والے لوگ گلوگیر ہو جاتے ہیں اور اسے مصلحت وقت کے خلاف بتاتے ہیں` غرض اسلام ایک ردی شے کی طرح گھروں سے نکال کر پھینک دیا گیا ہے اور صرف اس کا نام سیاسی فوائد کے حصول کے لیے رکھ لیا گیا ہے اس حالت کو دور کرنے اور اسلام کو مصیبت سے بجانے کے لیے صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ مسیح موعود کو قبول کیا جائے اور اس کے دامن سے اپنے آپ کو وابستہ کیا جائے بغیر اس کے سایہ