انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 589

۵۸۹ اقدسؑ نے کر دی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ عمر بھر ایسا معاملہ کیا جو وہ اپنے رسولوں اور پیاروں سے کرتا ہے ہر میدان میں آپ کو فتح دی اور ہر شر سے آپ کو بچایا- آپ کے دشمنوں کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا جو ماموروں اور مرسلوں کے دشمنوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے قانون قدرت تک کو اس نے آپ کی خدمت میں اور زمین وآسمان کو آپ کی تائید میں لگا دیا- علوم قرآنیہ کے دروازے آپ ؑپر کھول دئیے اور علوم قرآنیہ کی اشاعت کے ذرائع آپ کے لئے مہیا کر دئیے حتی کہ آپ نے ان لوگوں کو جو علم وفضل کی کان سمجھے جاتے تھے اپنے مقابلہ کے لئے بلایا مگر کوئی آپ کے مقابلہ پر نہ آسکا اور معجزانہ طور پر آپ کا کلام غالب رہا اور لا یمسمہ الا لمطھرون )سورہ واقعہ ع۳( کے وعدہ الٰہی نے آپ کی صداقت پر گواہی دی- پھر آپ پر غیب کا دروازہ کھولا گیا اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہزاروں امور غیبیہ پر اطلاع دی جو اپنے وقت پر پورے ہو کر جلال الٰہیہ کو ظاہر کرنے کا موجب ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اموغیبیہ پر کثرت سے سوائے اپنے رسولوں کے کسی کو مطلع نہیں فرماتا` آپ نے اپنی تمام عمر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت میں صرف کر دی اور ایسے شخص اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے دھتکارے نہیں جاتے- آپ نے ایک پاک اور کارکن جماعت پیدا کر دی ہے جس میں سے ایک گروہ ایسا ہے جس کا اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق ہے اور جو دوسرے لوگوں کو زندہ کرنے اور روحانی امور کے کھولنے کی قابلیت رکھتا ہے- دین پر فدا ہے اور دنیاوی علائق سے جدا- اسلام کا غمخوار ہے اور ماسوار سے بیزار- پس باوجود ان سب شواہد کے آپ کے دعوی کو قبول نہ کرنا اور آپ پر ایمان نہ لانا کسی طرح درست اور اللہ تعالیٰ کی نظروں میں پسندیدہ نہیں ہو سکتا اور درحقیقت وہ شخص جو اسلام سے محبت رکھتا ہو اور رسول کریم ﷺکا عاشق ہو اور اپنے ذاتی مفاد پر اسلام کے فوائد کو مقدم رکھتا ہو اس سے یہ امید ہی نہیں کی جا سکتی کہ اس وضاحت کے بعد خاموش رہے اور حق کے قبول کرنے میں دیر لگائے اگر یہ دلائل جو اوپر بیان ہوئے آپ کی صداقت کو ثابت نہیں کرتے تو پھر اور کون سے دلائل ہیں جن کے ذریعے سے پہلے انبیاء کی صداقت ثابت ہوئی اور جن کی وجہ سے نبیوں پر ایمان لایا جاتا ہے اگر ان سے بڑھ کر بلکہ سوائے رسول کریم ﷺ کے باقی سب نبیوں کے متعلق اس قدر بھی دلائل نہیں ملتے جتنے اوپر بیان ہوئے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان پر ایمان لایا جاتا ہے اگر ایمان صرف ماں باپ سے سنی سنائی باتوں کو دہرا دینے کا نام نہیں بلکہ تحقیق وتدقیق کر کے کسی بات کو ماننے کا نام ہے تو پھر دو