انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 556

۵۵۶ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کریں- یعنی بحری تیاریاں بھی بڑے زور سے ہوں گی اور تمام سمندروں میں کشتیاں چکر لگاتی پھریں گی- چنانچہ جس قدر جہازات اس جنگ میں استعمال ہوئے اور جس قدر سمندروں کا پہرا اس جنگ میں دیا گیا ہے اس سے پہلے کبھی اس کی مثال نہیں ملتی- خصوصاً چھوٹے جہازات یعنی ڈسٹیرائروں اور آبدوز کشتیوں نے اس جنگ میں اتنا حصہ لیا ہے جتنا پہلے کبھی نہیں لیا تھا اور الہام میں کشتیوں کے لفظ سے اسی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ اس جنگ میں بڑے جہازوں کی نسبت چھوٹے جہازات سے زیادہ کام لیا جائے گا- ایک نشانی اس آفت کی یہ بتائی گئی تھی کہ وہ اچانک آئے گی- چنانچہ یہ جنگ بھی ایسی اچانک ہوئی کہ لوگ حیران ہو گئے اور بڑے بڑے مدبروں نے اقرار کیا کہ گو وہ ایک جنگ کے منتظر تھے مگر اس قدر جلد اس کے پھوٹ پڑنے کی ان کو امید نہ تھی` آسٹریا کے شہزادے اور اس کی بیوی کا قتل ہونا تھا کہ سب دنیا آگ میں کود پڑی- اس علامت اس جنگ کی یہ بتائی گئی تھی کہ اس کے دوران میں ایسے مواقع نکلیں گے کہ عربوں کے لیے مفید ہوں گے اور عرب ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں گے اور سب کے لیے نکل کھڑے ہوں گے` چنانچہ ایسا ہی ہوا- ترکوں کے جنگ میں شامل ہونے پر عربوں نے دیکھا کہ وہ قومی آزادی کی خواہش جو صدیوں سے ان کے دلوں میں پیدا ہو کر مر جاتی تھی اس کے پورا کرنے کا موقع آگیا ہے اور وہ سب یکدم ترکوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور فوج در فوج ترکوں کے مقابلے کے لیے نکل پڑے اور آخر آزادی حاصل کر لی- ایک علامت یہ تھی کہ جس طرح میرا ذکر مٹ گیا ہے- اسی طرح گھر برباد کر دئیے جائیں گے` چنانچہ ایسا ہی ہوا- سب سے زیادہ عیاشی میں مبتلا علاقہ فرانس کا مشرقی علاقہ تھا تمام یورپ کو شراب وہیں سے بہم پہنچائی جاتی تھی اور عیش وعشرت کو پسند کرنے والے کل مغربی ممالک سے وہاں جمع ہوتے تھے- سو اس علاقے کو سب سے زیادہ نقصان اٹھا پڑا جس طرح خدا کا ذکر وہاں سے مٹ گیا تھا وہاں کے درو دیوار اسی طرح مٹا دئیے گئے- ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ ہماری فتح ہو گی- یعنی جس حکومت کے ساتھ مسیح موعود کی جماعت ہو گی- اس کی فتح حاصل ہو گی` چنانچہ ایسا ہی ہوا` اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کی دعاؤں کے طفیل برطانیہ کو اس خطرناک مصیبت سے نجات دی` گو اس کے مدبّر تو یہ خیال کرتے ہونگے