انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 555

۵۵۵ کہہ کر جب وعد الاخرہ آئے گا` تو ہم پھر تم کو اکٹھا کر کے لے آیں گے اس بات کا اشارہ کیا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم کو یہ جگہ چھوڑنی پڑے گی` لیکن وعدہ الاخرہ کے وقت یعنی مسیح موعود کی بعثت ثانیہ کے وقت ہم تم کو پھر اکٹھا کر کے لے آئیں گے` چنانچہ تفسیر فتح البیان میں لکھا ہے- وعدالاخرہ نزول عیسی من السماء اسی سورہ کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے متعلق دو زمانوں کا ذکر کیا ہے` جن میں سے دوسرے زمانے کے متعلق فرماتا ہے- فاذا جاء وعد الاخرہ لیسوء ا وجوھکم ولید خلواالمسجد کما دخلوہ اول مرہ ولیتبروا ما علوا تتبیرا پس جد وعدہ الاخرہ آگیا تاکہ تمہاری شکلوں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد میں داخل ہوئے تھے اس دفعہ بھی مسجد میں داخل ہوں اور جس چیز پر قبضہ پائیں اسے ہلاک کر دیں- اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وعد الاخرہ سے مراد وہ زمانہ ہے جو مسیح کے بعد یہود پر آئے گا- کیونکہ اس وعد الاخرہ کے بعد بجائے جمع کئے جانے کے یہود پر اگندہ کر دئیے گئے تھے اس لیے ماننا پڑتا ہے کہ دوسری جگہ وعد الاخرہ سے مسیح کے نزول ثانی کے بعد کا زمانہ مراد ہے اور جئنا بکم لفیقا سے مراد یہود کا وہ اجتماع ہے جو اس وقت فلسطین میں کیا جا رہا ہے کہ وہ ساری دنیا سے اکٹھا کر کے وہاں لاکر بسائے جا رہے ہیں اور حضرت اقدسؑ علیہ السلام کے الہام کففت عن بنی اسراء یل سے مراد اس مخالفت کا دور ہونا ہے جو اقوام عالم بنی اسرائیل (یہود)سے رکھتی تھیں اور ان کو کوئی قوم گھر بنانے کی اجازت نہیں دیتی تھی- ایک علامت اس جنگ کے لیے یہ مقرر کی گئی تھی کہ یہ جنگ بہر حال سولہ سال کے اندر ہو گی` چنانچہ ایسا ہی ہوا- ۱۹۰۵ء میں اس کے متعلق الہام ہوئے اور ۱۹۱۴ء میں یعنی نو سال کے بعد یہ جنگ شروع ہو گئی- ایک علامت اس جنگ کی یہ بتائی گئی تھی کہ تمام بیڑے اس وقت تیار رکھے جائیں گے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس جنگ کے دوران میں برسر پیکار قوموں کے علاوہ دوسری حکومتوں کو بھی اپنے بیڑے ہر وقت تیار رکھنے پڑتے تھے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کا بیڑہ ان کے سمندر میں کوئی نامناسب بات کر بیٹھے اور ان کو جنگ میں خواہ مخواہ مبتلا ہونا پڑے اور اس غرض سے بھی تا اپنے حقوق کی حفاظت کریں- ایک علامت اس جنگ کی یہ بتائی گئی تھی کہ جہاز پانی میں ادھر سے ادھر چکر لگائیں گے تا