انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 512

۵۱۲ اور ان سے بچنے کی ضرورت یہ سب مسائل اور ان کے سوا باقی اور بہت سے مسائل کے متعلق آپ ؑ نے قرآن کریم ہی کے ذکر کردہ عقلی اور نقلی دلائل بیان کر کے ثابت کر دیا کہ قرآن کریم پر علوم جدیدہ کی دریافت کا کوئی اثر نہیں پڑ سکتا` کیونکہ آپ ؑنے بتایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰٰ کا فعل اور اس کا قول مخالف ہوں` جو کلام اس کے مخالف ہے وہ اس کا کلام ہی نہیں اور جو اس کا کلام ہے وہ اس کے فعل کے مخالف نہیں ہو سکتا- ان علوم کے بیان کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت صرف آپ ؑہی کی جماعت ہے جو ایک طرف تو علوم جدیدہ کی تحصیل میں پوری لگی ہوئی ہے اور دوسری طرف سیاسی ضرورت یا نسلی تعصب کی وجہ سے نہیں بلکہ سچے طور پر تقلیدی طور پر نہیں بلکہ علی وجہ البصیرت اسلام کے بیان کردہ تمام عقائد پر یقین رکھتی ہے اور ان کی صداقت کو ثابت کر سکتی ہے- باقی جس قدر جماعتیں ہیں وہ ان علوم سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے تو علوم جدیدہ کی تکذیب کر کے اور ان کے حصول کو کفر قرار دیکر اپنے خیالی ایمان کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں یا پھر ان کے اثر سے متاثر ہو کر دیں کو عملاً چھوڑ بیٹھی ہیں یا ظاہر میں لوگوں کے خوف سے اظہار اسلام کرتی ہیں مگر دل میں سو قسم کے شکوک اور شبہات اسلامی تعلیم کے متعلق رکھتی ہیں- تیسرا اصولی علم قرآن کریم کے متعلق آپ کو یہ دیا گیا ہے کہ انسانی عقل کوئی شبہ یا وسوسہ قرآن کریم کی تعلیم کے متعلق پیدا کر لے` اس کا جواب قرآن کریم کے اندر موجود ہے اور آپ نے اس مضمون کو اس وسعت سے بیان کیا ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے- ہر قسم کے وساوس اور شکوک کا جواب آپ نے قرآن کریم سے دیا ہے اور اس طرح نہیں کہ کہہ دیا ہو کہ قرآن کریم اس خیال کو رد کرتا ہے اس لئے یہ خیال مردود ہے بلکہ ایسے دلائل کے ذریعہ سے جو گو بیان تو قرآن کریم نے کئے ہیں مگر ہیں عقلی اور علمی جن کو ماننے پر ہر مذہب وملت کے لوگ مجبور ہیں- چوتھا اصولی علم قرآن کریم کے متعلق آپ کو یہ دیا گیا ہے کہ اس سے پہلے لوگ عام طور پر یہ تو بیان کرتے تھے کہ قرآن کریم سب کتب سے افضل ہے مگر یہ کسی نے ثابت نہ کیا تھا کہ کتب مقدسہ یا دوسری تصانیف پر اسے کیا فضیلت حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ بے نظیر ہے اور بے مثل ہے اس مضمون کو آپ ؑنے قرآن کریم ہی کے بیان کردہ دلائل سے اس وسعت سے ثابت کیا ہے کہ بے اختیار انسان کا دل قرآن کریم پر قربان ہونے کو چاہتا ہے اور محمد