انوارالعلوم (جلد 7) — Page 511
۵۱۱ کے فضل کی اس سورہ میں خبر دی گئی تھی جس کو پڑھ کر مومن کا ایمان تازہ ہوتا ہے اور سب شکوک وشبہات ہوا ہو جاتے ہیں- یہ ایک مثال میں نے ان اخبار کی دی ہے جو اس زمانے کے متعلق قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں اور جن کو حضرت اقدسؑ ؑنے خود بیان فرمایا ہے ،یا جن کو آپ کے بتائے ہوئے اصول کے ماتحت آپ کے خدام نے قرآن کریم سے اخذ کیا ہے ورنہ اس زمانے کے مفاسد اور حالات کی خبریں اور ان کے علاج قرآن کریم میں اس کثرت سے بیان ہوئے ہیں کہ ان کو دیکھ کر سخت سے سخت دشمن بھی یہ اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے جس سے ماضی حال اور مستقبل کسی زمانے کے بھی حالات کو پوشیدہ نہیں مگر ان کے بیان کرنے سے اصل مضمون رہ جائے گا اور یہ مکتوب بہت زیادہ لمبا ہو جائے گا- دوسرا اصولی علم جو قرآن کریم کے متعلق آپ کو دیا گیا یہ ہے کہ قرآن کریم میں کوئی دعویٰ بلا دلیل بیان نہیں کیا جاتا اس اصل کے قائم کرنے سے اس کے علوم کے انکشاف کے لئے ایک نیا دروازہ کھل گیا اور جب اس کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کریم پر غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ہزاروں باتیں جو اس سے پہلے بطور دعوے کے سمجھی جاتی تھی اور ان کی دلیل یہ سمجھ لی گئی تھی کہ خدا نے کہا ہے اس لیے مان لو` وہ سب اپنے دلائل اپنے ساتھ رکھتی تھیں- اس دریافت کا یہ نتیجہ ہوا کہ فطرت انسانی نے جو علوم کی ترقی کی وجہ سے اس زبردستی کی حکومت کا جوا اتار پھینکنے کے لئے تیار ہو رہی تھی عقلی طور پر تسلی پاکر نہایت جوش اور خروش سے قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول سے لپٹ گئی اور قرآن کریم کی باتوں کے ماننے میں بجائے ایک بوجھ محسوس ہونے کے فرحت حاصل ہونے لگی اور محسوس ہونے لگا کہ قرآن کریم ایک طوق کے طور پر ہماری گردنوں میں نہیں ڈالا گیا بلکہ ایک واقف کار رہنما کی مانند ہمارے ہمراہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰٰ کی ذات کے وہ زبردست ثبوت آپ نے قرآن کریم سے پیش کئے جن کو موجودہ سائنس رد نہیں کر سکتی اور جن کے اثر سے تعلیم یافتہ دہریوں کی ایک جماعت واپس خدا پرستی کی طرف آرہی ہے- اسی طرح آپ نے ملائکہ پر جو اعتراض ہوتے تھے ان کے جواب قرآن کریم سے دئیے، نبوت کی ضرورت اور نبیوں کی صداقت کے دلائل قرآن کریم سے بیان کئے، قیامت کا ثبوت قرآن کریم سے پیش کیا، اعمال صالحہ کی ضرورت اور ان کے فوائد اور نواہی کے خطرناک نتائج