انوارالعلوم (جلد 7) — Page 505
۵۰۵ گھوڑے سے ایک بالشت بھی آگے ہو سکتا ہے ایک گز بھی ہو سکتا ہے اور ایک گھوڑے کے کھڑے ہونے کی جگہ کی مقدار بھی آگے ہو سکتا ہے یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے یہی حال بے مثل کلام کا ہے کہ وہ ان سے دوسرے کلاموں کی نسبت جن کے مقابلہ میں اسے بے مثل ہونے کا دعویٰ ہے معمولی فضیلت بھی رکھ سکتا ہے اور بہت زیادہ فضیلت بھی رکھ سکتا ہے اب یہ امر کہ اس کا دوسرے کاموں کا فرق تھوڑا ہے یا بہت اسی طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کے درمیان ان کلاموں کے درمیان جن سے وہ افضل ہونے کا مدعی ہے اور کلام آکر کھڑے ہو سکیں کہ وہ بھی بے مثل ہوں لیکن اس کے مقابلہ میں وہ بھی ادنیٰ ہوں- پس حضرت اقدسؑ کی کتب نے دوسرے انسانوں کے کلاموں کے مقابلے میں اپنی مثلیت ثابت کر کے بتا دیا ہے کہ قرآن کریم اپنی بے مثلیت میں دوسرے کلاموں سے بہت ہی بڑھا ہوا ہے کیونکہ وہ کلام جن کو قرآن کریم کے مقابلے پر کھڑا کیا جاتا تھا- آپ کے کلام نے ان کو پیچھے ڈال دیا` مگر پھر بھی آپ کا کلام قرآن کریم کے ماتحت ہی رہا اور اس کا خادم ہی ثابت ہوا جس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم دوسرے کلاموں سے اس قدر آگے نکلا ہوا ہے کہ اس کے اور دوسرے کلاموں کے درمیان ایک وسیع فاصلہ ہے- اس فصاحت کے علاوہ جو آپ کو عطا ہوئی- ایک علم ظاہری آپ کو یہ عطا ہوا کہ آپ کو الہاماً عربی زبان کے ام الالسنہ ہونے کا علم دیا گیا- یہ ایک عظیم الشان اور عجیب علم تھا کیونکہ یورپ کے لوگ ام الالسنہ کے متعلق لمبی کوششوں کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ سنسکرت یا پہلوی زبان ام الالسنہ ہے اور بعض لوگ ان دونوں زبانوں کو بھی اس زبان کی جو سب سے پہلی زبان تھی شاخ قرار دیتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ ابتدائی زبان دنیا سے مٹ گئی ہے- یہ تو یورپ کے لوگوں کا حال تھا عرب جن کی زبان عربی ہے وہ بھی اس فضیلت کے قائل نہ تھے بلکہ یورپ کی تعلیم کے اثر سے ام الالسنہ کی دوسرے ممالک کی زبانوں میں تلاش کر رہے تھے ان حالات میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ علم دیا جانا کہ اصل میں عربی زبان میں ام الالسنہ ہے ایک قابل حیرت انکشاف تھا مگر قرآن کریم پر تدبر کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ انکشاف قرآن کریم کی تعلیم کے بالکل مطابق تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وہ کلام جو ساری دنیا کی طرف نازل ہونا تھا اسی زبان میں نازل ہونا چاہئیے تھا جو سب سے ابتدائی زبان ہونے کے لحاظ سے ساری دنیا کی زبان ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰٰ فرماتا ہے وما ارسلنا من رسول