انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 504

۵۰۴ بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی زبان میں کتب لکھنے کی توفیق دے دی جو اپنی خوبیوں میں بے مثل ہے تو اس میں قرآن کریم کی ہتک ہو گئی اور اس کا دعویٰ باطل ہوگیا ان لوگوں کا یہ اعتراض محض تعصب کا نتیجہ ہے ورنہ اگر یہ سوچتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ باوجود حضرت اقدسؑؑ کی عربی کتب کے بے مثل ہونے کے قرآن کریم کا دعویٰ حق اور راست ہے اور اس کا معجزانہ رنگ موجود ہے بلکہ آگے سے بڑھ گیا ہے- دنیا ہر ایک فضیلت دو قسم کی ہوتی ہے کامل فضیلت اور وہ فضیلت جو اضافی ہوتی ہے یعنی ایک فضیلت تو وہ جو بلا دوسری چیزوں کو مدنظر رکھنے کے ہوتی ہے اور ایک فضیلت وہ جو بعض اور چیزوں کو مدنظر رکھکر ہوتی ہے اس کی مثال قرآن کریم سے ہی میں یہ پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کی نسبت قرآن کریم میں فرماتا ہے وانی فضلتکم علی العلمین )بقرہ ع۶ :۴۸) میں نے تم کو تمام جہان کے لوگوں پر فضیلت دی اور پھر مسلمانوں کی نسبت فرماتا ہے کنتم خیرامہ اخرجت للناس )آل عمران ع۱۲ :۱۱۱( تم سب سے بہتر امت ہو جو سب لوگوں کے لیے نکالی گئی ہو تو ایک طرف بنی اسرائیل کو سب جہانوں پر فضیلت دیتا ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو سب جہانوں پر فضیلت دیتا ہے- بظاہر اس بات میں اختلاف نظر آتا ہے لیکن اصل میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ ایک جگہ پر تو اپنے زمانے کے لوگوں پر فضیلت مراد ہے اور دوسری جگہ اولین وآخرین پر- اسی طرح حضرت اقدسؑ مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کی کتب کو جو بے مثلیت حاصل ہے وہ انسانوں کے کلاموں کو مدنظر رکھ کر ہے اور قرآن کریم کو جو بے مثلیت عطا ہوئی ہے وہ تمام انسانی کلاموں پر بھی ہے اور خود اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے آنے والے دوسرے کلاموں پر بھی اور ان میں حضرت اقدسؑ کے الہامی خطبات اور آپؑ کی کتب بھی شامل ہیں- پس قرآن کریم کا بے مثل ہونا حقیقی ہے اور حضرت اقدسؑ کی کتب کی زبان کا بے مثل ہونا اضافی- پس آپ کا یہ معجزہ گو لوگوں کے لیے حجت ہے مگر قرآن کریم کی شان کا گھٹانے والا نہیں- میں نے اوپر بیان کیا تھا کہ آپ کے معجزہ سے قرآن کریم کے معجزہ کی شان دوبار ہو گئی ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ بے مثلیت بھی کئی قسم کی ہوتی ہے- ایک بے مثلیت ایسی ہوتی ہے کہ بے مثل کلام کو دوسرے کلاموں پر فضیلت تو ہوتی ہے مگر بہت زیادہ فضیلت نہیں ہوتی- پس گو اس کو افضل کہیں گے مگر دوسرے کلام بھی اس کے قریب قریب پہنچے ہوئے ہوتے ہیں جیسے کہ مثلا گھوڑ دوڑ میں جب گھوڑے دوڑتے ہیں تو ایک گھوڑا جو اول نکلے دوسرے