انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 392

۳۹۲ دعوۃالامیر نہیں۔وہ جس نے کسی ایک نبی کو بد لائل مانا ہو اور صرف نسلی ایمان پر کفایت کئے نہ بیٹھاہو، اس کے لئے ان نشانات سے فائدہ اٹھا نا کچھ بھی مشکل نہیں، مگر وہ لوگ جو بظاہر سینکڑوںرسولوں پر ایمان لاتے ہیںلیکن در حقیقت ایک رسول کو بھی انہوں نے اپنی تحقیق سے نہیں مانا، ان کے لئے کسی راستباز کا ماننا خواہ وہ کتنے ہی نشان اپنے ساتھ کیوں نہ رکھتا ہو ، نہایت مشکل ہے ، ان لوگوں کا اپنا ایمان درحقیقت کوئی وجود نہیں رکھتا، ان کا ایمان وہی ہوتا ہے جو ان کے علماء یا مولوی کہہ دیں یا جو باپ دادا کی روایات ان کے کانوں تک پہنچی ہوں ، پس چونکہ انہوں نے کسی ایک رسول کو بھی اس کی اپنی شکل میں نہیں دیکھا ہوتا۔رسول کا پہچا ننا ان کے لئے ناممکن ہے اور اسی وقت یہ کسی رسول کو دیکھ سکتے ہیں جبکہ پہلے اپنی نظر کی اصلاح آسمانی ہدایت کے سُرمہ سے کر لیں اور انسانی اقوال اور رسوم کی تقلید کے خمار کو اپنے سر سے دور کردیں۔اس مختصر تمہید کے بعد میں ان نشانات کو بیان کرتا ہوں جو مسیح موعود کے زمانے کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں۔میرے نزدیک اگر کوئی ان نشا نات پر بے تعصبی سے غور کر یگا تو اس کے لئے مسیح موعودؑ کے زمانے کی تعیین کر لینا ذرا بھی مشکل نہ رہے گا مگر پیشتر اس کے کہ اِن نشانات پر غور کیا جائے اس امر کا سمجھ لینا ضروری ہے کہ امت اسلامیہ کے اندر تفرقہ رونما ہونے کے زمانے میں بہت سے لوگوں نے اپنے مقاصد کے حصول کی غرض سے جھوٹی احادیث بھی بہت سی بنا کر شائع کر دی ہیں جن سے ان کی غرض یہ ہے کہ کسی طرح ہمارا فرقہ سچا ثابت ہو جائے مثلاً بہت سی احادیث ایسی ملیں گی جن میں مہدی کے زمانے کی خبر دی گئی ہے مگر ان کے الفاظ اس قسم کے ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ ماضی کے کسی اختلاف کا فیصلہ اپنے حق میں کرانا ان سے مقصود ہے۔ایسی روایات میں سے گو بعض سچی بھی ہوں مگر پھر بھی ان کے متعلق محقّق کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے اور کم سے کم ان احادیث کی تائید یا تردید پر اس کے دعوے کی بنیاد نہیں ہو نی چاہئے۔مثلاً بہت سی احادیث بنو عباس کے زمانے کی اس قسم کی ملتی ہیں جن میں بظاہر تو مہدی کے زمانے کی علامات بتائی گئی ہیں ، مگر درحقیقت بتا یا یہ گیا ہے کہ عباسیوں کی تائید میں خراسان میں جو بغاوتیں ہوئی تھیں، وہ خُدا تعالیٰ کی طرف سے تھیں اور اس کی مرضی کے مطابق تھیں۔ان احادیث کا بطلان واقعات نے آپ ہی ثابت کر دیا ہے۔اس زمانے پر ایک ہزار سال سے زائد گزر گئے ، مگر ان علامات کے بموجب کوئی مہدی ظاہر نہ ہوا، اسی طرح اور بہت سی روایات ہیں جن میں علاماتِ مہدی کو