انوارالعلوم (جلد 7) — Page 391
۳۹۱ دعوۃالامیر ۴۔ایک خطرناک اور پُر آشوب زمانہ جس کی خبر نہایت مُنذر الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی اور جو اپنے ہیبت ناک اثرات سے اسلام کی جڑوں کو ہلا دینے والا ثابت ہونے والا تھا۔اس کی آفات کا ازالہ اور آئندہ ہمیشہ کے لئے اسلام کے محفوظ کرد ینے کا کام مسیح موعودؑ کے سپرد بتا یا گیا تھا۔پس مسیح موعود کا انتظار مسلمانوں کو اسی طرح ہورہا تھا جیسا کہ ایک رحمت کے فرشتے کا ہونا چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ کہ کَیْفَ تَھْلِکُ اُمَّۃٌ اَنَا فِیْ اَوَّلِھَا وَ الْمَسِیْحُ فِیْ اٰخِرِھَا (کنزالعمال (مؤلّفہ علّامہ علاؤالدّین علی المتقی بن حسام الدین الھندی البرھان النوری المتوفّٰی ۹۷۵ھ )جلد ۱۴ صفحہ ۲۶۹ روایت ۳۸۶۸۲مطبوعہ حلب ۱۹۷۵ءمیں’’المسیح ‘‘ کی بجائے ’’عیسٰی بن مریم‘‘کے الفاظ ہیں) وہ امت کس طرح ہلاک ہو سکتی ہے جس کے شروع میں میں ہوں اور آخر میں مسیح ہوگا۔بہی خواہانِ اسلام کو مسیح علیہ السلام کی آمد کے لئے بے تاب کر رہے تھے کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ اس کی آمد کے بعد اسلام چاروں طرف سے مضبوط دیواروں میں گھر کر شیطانوں کے حملوں سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے گا۔ان چاروں باتوں نے مل کر مسیح کی آمد کے مسئلے کو مسلمانوں کے لئے ایک اصولی سوال بنا دیا تھا۔اور ممکن نہ تھا کہ ایسا زمانہ جو ایک طرف تو عاشقانِ رسالت مآب کو اپنے محبوب کے روبرو کرنے والا تھا، خواہ ظلیت اور مما ثلت کے پردے ہی میں سہی اور دوسری طرف اسلام کو حشرانگیز صدمات سے نکال کر حفاظت اور امن کے مقام پر کھڑا کرنے والا تھا، بلا کافی پتے اور نشان دہی کے چھوڑ دیا جاتا۔یہ تو نہ کبھی ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے کہ ماموروں اور مرسلوں کے زمانے اور ان کی ذات کی طرف ایسے الفاظ میں رہنمائی کی جائے کہ گویا متلاشی کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ دے دیا جائے کیونکہ اگر اس طرح کیا جاتا تو ایمان بے فائدہ ہو جاتا او رکافر اور مومن کی تمیز مٹ جاتی۔ہمیشہ ایسے ہی الفاظ میں ماموروں کی خبر دی جاتی ہے جن سے ایمان اور شوق رکھنے والے ہدایت پا لیتے ہیں۔اور شریر اپنی ضد اور ہٹ کے لئے کوئی آڑ اور بہانہ تلاش کر لیتے ہیں ، چڑھے ہوئے سورج کا کون انکار کر سکتا ہے؟ مگر اس پر ایمان لانے کا ثواب اور اجر بھی کون دیتا ہے؟ پس ایک حد تک راہنمائی اور ایک حد تک اخفاء ضرور کیا جاتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے۔مسیح موعودؑ کے زمانہ کی خبروں میں بھی اسی اصل کو مد نظر رکھا گیا ہے۔اس کے زمانے کی خبریں ایسے الفاظ میں دی گئی ہیں جس قسم کے الفاظ میں تمام گزشتہ انبیاء کے متعلق خبریں دی جاتی رہی ہیں، مگر پھر بھی ایک سچے متلاشی اور صاحب بصیرت کے لئے وہ ایک روشن نشان سے کم