انوارالعلوم (جلد 7) — Page 353
۳۵۳ دعوة الا میر مت کی اصلاح کی اور اسے تباہی سے بچا یا‘ ہم تو اس امر کو بہت پسند کرتے ہیں کہ ہماری زبانیں کٹ جائیں بہ نسبت اس کے کہ ایسی ہتک آمیزبات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کریں اور ہمارے ہاتھ شل ہو جائیں بجائے اس کے کہ ایسے کلمات آپ کے حق میں تحریر کریں ‘ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰٰ کے محبوب ہیں‘آپؐ کی قوّتِ قدسیہ کبھی باطل نہیں ہوسکتی۔آپؐ خاتم النبیّیّن ہیں۔آپ ؐ کا فیضان کبھی رُک نہیں سکتا‘ آپؐ کا سرکسی کے احسان کے آگے جھک نہیں سکتا بلکہ آپؐ کا احسان سب نبیوں پر ہے۔کوئی نبی نہیں جس نے آپؐ کو منوایا ہو اور آپ ؐ کی صداقت آپ کے منکر وں سے منوائی ہو‘ لیکن کیا لاکھوں کروڑوں انسان نہیں جن سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی انبیاء کی نبوت منوائی ہے۔ہندوستان میں آٹھ کروڑ مسلمان بیان کئے جاتے ہیں‘ ان میں سے بہت ہی تھوڑے ہیں جو بیرونی ممالک کے رہنے والے ہیں‘ باقی سب ہندوستان کے باشندے ہیں جو کسی نبی کا نام تک نہ جانتے تھے مگرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاکر ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام پر ایمان لے آئے ہیں۔اگر اسلام ان کے گھروں میں داخل نہ ہوا ہوتا تو آج وہ ان نبیوں کو گالیاں دے رہے ہو تے اور اُن کو جھوٹے آدمیوں میں سے سمجھ رہے ہوتے جس طرح کہ ان کے باقی بھائی بندوں کا آج تک خیال ہے۔اسی طرح آفغانستان کے لوگ اور چین کے لوگ اور ایران کے لوگ کب حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰؑ کو مانتے تھے ‘ان سے ان انبیاء کی صداقت کا اقرارآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی کرایا ہے۔پس آپ کا سب گزشتہ نبیوں پر احسان ہے کہ ان کی صداقت لوگوں پر مخفی تھی۔آپؐ نے اس کو ظاہر فرمایا‘ مگر آپؐ پر کسی کا احسان نہیں۔آپؐ پر اللہ تعالیٰٰ وہ دن کبھی نہیں لائے گا جب آپؐ کا فیضان بند ہو جائے اور کوئی دوسرا نبی آکر آپؐ کی امت کی اصلاح کرے‘ بلکہ جب کبھی بھی آپؐ کی امت کی اصلاح کی ضرورت پیش آئے گی۔اللہ تعالیٰ آپ ہی کے شاگردوں میں سے اور آپؐ ہی کے امتیوں میں سے ایسے لوگ جنہوں نے سب کچھ آپؐ ہی سے لیا ہوگا اور آپؐ ہی سے سیکھا ہو گا مقررر فرمائے گا تا کہ وہ بگڑے ہوؤں کی اصلاح کریں اور گمشدوں کو واپس لائیں اور اُن لوگوں کا کام آپؐ ہی کاکام ہوگا‘ کیونکہ شاگرد اپنے استاد سے علیحدہ نہیں ہوسکتا اور امتی اپنے نبی سے جدا نہیں قرار دیا جا سکتا، ان کی گرد نیں آپؐ کے احسان کے آگے جھکی ہو ئی ہوں گی اور ان کے دل آپؐ کی محبت کی شراب سے لبریزہوں گے اور ان کے سرآپؐ کے عشق کے نشے سے سرشار ہوں گے۔