انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 15

۱۵ مسلمان کرتے ہیں مجھے بھی نو ردیں اور وہ یہ کہ جن میرے قبضہ میں آجائے اور کوئی ایساٹوٹابتائیں جس سے غیب کی خبریں معلوم ہو جائیں اور پھر اس ٹوٹا کی قیمت بھی پوچھی ہے کہ کیا لیتے ہیں ؟ یہ با تیں میں نے اس لئے بتائی ہیں تامعلوم ہو جائے کہ لوگوں کی حالت کہاں تک پہنچی ہوئی ہے اور بعض جاہل ایسے ہیں جو مرض کو بھی نہیں سمجھ سکتے۔ابھی چند دن ہوئے ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا میرے لڑکے کو جن چڑھ گیا ہے اور وہ جن سکھ ہے جو کہتا ہے کہ ایک دیگ پکا کر میرے لئے نیاز چڑھاؤ-اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی بتا گیا ہے کہ خلیفہ صاحب سے پوچھ لینا اس پر میں نے ڈاکٹر( حشمت اللہ )صاحب کو بھیجا۔کہ جا کر جن نکال آئیں۔جب ڈاکٹر صاحب گئے تو وہ لڑکا اسی سکھ کا نام لے اس کے سوا کچھ نہ کہے۔ڈاکٹر صاحب نے اسے گد گدانا شروع کیا اور وہ بولنے لگ گیا۔دراصل یہ ایک بیماری ہوتی ہے بچے بھی جو قصے سنتے ہیں ان کو اپنے اوپر وارد کر لیتے ہیں۔اب اگر کسی پر یہ ثابت کر دیں کہ اس کو جن نہیں چڑھا بلکہ بیماری ہے تو وہ علاج کی طرف توجہ کرے گا لیکن اگر اس پریہی بات ظاہر نہیں تو اسے علاج کی طرف بھی توجہ نہ ہوگی لیکن علاج کی طرف بھی توجہ ہو جائے تب بھی یہ سوال رہ جاتا ہے کہ علاج اس مرض کا کیا ہے؟ مثلاً بعض لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انگریزی دوائیاں گرم خشک ہوتی ہیں ان کو استعمال نہیں کرنا چاہئے۔حضرت خلیفہ اول سناتے تھے ایک رئیس کالڑ کا بیمار تھا مجھے اس کے علاج کے لئے بلایا گیا ایک اور طیب صاحب بھی آئے ہوئے تھے میں نے گھروالوں سے پوچھا مریض کو تھرما میٹر لگایا گیا ہے یا نہیں؟ انہوں نے بتایا نہیں لگایا میں نے کہا کہ لگا کر دیکھ لیں۔میری یہ بات اس طبیب نے بھی سن لی وہ کہنے لگابس میں اب جاتا ہوں انگریزی دوائیں گرم خشک ہوتی ہیں مریض کو تکلیف ہوگی اور نام میرا ہوگا۔میں نے اسے بہتیرا سمجھایا کہ یہ کوئی دوائی نہیں بلکہ آلہ ہے جو بغل میں یا منہ میں رکھ کر حرارت کا اندازہ لگایا جاتا ہے مگر وہ یہی کہتا رہا کہ انگریزوں کی ہر چیز گرم خشک ہوتی ہے۔بیماری کا علم کافی نہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ جہالت کی وجہ سے بیماری کا علم ہو جانے پر ہی انسان صحیح علاج سے محروم رہ جاتا ہے۔لیکن علم کے بعد بھی ایک مرحلہ انسانی تدبیر کا باقی رہ جاتا ہے یعنی اس علم کا استعمال کرتا۔مثلا ًکسی شخص کو اگر معلوم ہو جائے کہ کونین ملیریا کی اعلیٰ درجہ کی دوائی ہے تو اس علم سے اس کا بخار نہیں دور ہو جائے گا بخارا سی وقت اترے گا جب مریض کو نین کھائے گا۔پس کسی بات کا علم ہو جانا بھی کافی نہیں جب