انوارالعلوم (جلد 7) — Page 13
۱۳ کہتے ہیں کہ مجدد آتے رہیں گے۔پھر کیا نعوذ باللہ وہ کافر ہوں گے؟ پھر مولوی صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کی اولاد میں سے آج نہ سہی کسی اور وقت میں ایک ایسا بھی انسان ہو گاجو صاحب وحی ہو گا کیا وہ بھی ولی نہ ہوگا؟ پس ماننا پڑے گا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ولی نہ ہوگاجو حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت سے باہر ہو گا اور وہی ولی ہو گا جو آپ کی جماعت میں سے ہوگا۔چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ خود بھی یہی معنی کرتے ہیں جیسا کہ فرماتے ہیں لا ولی بعدی الا الذی ھو منی وعلی عھدی کوئی ولی نہ ہوگا مگر وہی جو میری جماعت میں سے ہو گا اس سے مولوی صاحب کا دعوٰی باطل ہو گیا۔پھرده ولی کی نسبت تو کہہ دیں گے کہ چلو مسیح موعود کے بعد کو کیوں نہیں اگر ایک اور بھی شہادت ہے جس کی تکذیب کر کے غالباً مولوی صاحب کو اپنے خاندان پر بھی ہاتھ صاف کرنا پڑےگا اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ اپنے آپ کو خاتم الاولاد کہہ کر خاتم کے معنی آخری نہیں کرتے۔لیکن اگر مولوی صاحب کے نزدیک یہ معنی ہوں تو پھرا نہیں یہ بھی کہنا پڑے گا کہ اب کسی کے ہاں کوئی اولاد نہیں پیدا ہوتی اور مولوی صاحب کے ہاں جو اولاد ہے وہ بھی یا تو وہم اور قشطه ہے یا پھر آخر کے انہیں اور معنی کرنے پڑیں گے۔یہاں اس بات کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ خاتم الاولاد سے حضرت مسیح موعودؑ کامنشاء کیا ہے کیونکہ بحث یہ ہے کہ خاتم جب کسی انسانی جماعت کی طرف مضاف ہو تو اس کے معنی مہر کے ہوتے ہیں یا آخری کے اور جب کہ حضرت مسیح موعودؑ کے استعمال سے ثابت ہو گیا کہ اس کے معنی مہر کے ہوتے ہیں تو مولوی صاحب کادعویٰ باطل ہو گیا کہ اس کے معنی آخری کے ہی ہوتے ہیں۔مولوی محمد علی صاحب کی اپنی شہادت مگر حضرت مسیح موعودؑ کے حوالے ان کو پسند نہیں آتے اس لئے ان کے اپنے حوالے پیش کرتاہوں۔انہوں نے جو ترجمہ قرآن شائع کیا ہے اس سے میں نے بتایا تھا کہ خاتم کے معنی انہوں نے مہرکے ہی کئے ہیں۔اب میں ان کی کتاب ”النبوۃ في الاسلام“ جس پر انہیں سب سے زیادہ ناز ہے وہ پیش کرتا ہوں اس میں انہوں نے حضرت مسیح موعود ؑکو خاتم الخلفاءمانا ہے اور وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ آپ کے بعد بھی مجدد آئیں گے اور ایک آپ کی اولاد میں سے بھی ہو گا * پس میں نے ان کے سامنے ان کے اپنے حوالے بھی پیش کردیئے حضرت مسیح موعود ؑکی اس عربی کتاب کا حوالہ بھی دکھادیا جس کے لئے خد اتعالیٰ نے شہادت دی ہے۔