انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 248

۲۴۸ گاؤں ہوں ان میں ضرور جاؤ لیکن بغیر خاص علم یا نہایت اشد ضرورت کے اپنے مرکز کو ہرگز نہ چھوڑو۔میری چھٹی نصیحت یہ ہے کہ جس گاؤں میں تم متعین ہو اس کے اردگرد کے گاؤں کو بھی اپنا ہی علاقہ سمجھو۔ہمارے پاس اتنے آدمی نہیں کہ ہر ایک چھوٹے بڑے گاؤں میں ایک ایک مبلغ لگادیں اس لئے تم جس مرکزی گاؤں میں مقیم ہو اس کے اردگر و علاقوں میں ضرور جاؤ اگر اس گاؤں میں کوئی کام نہ ہو تو سیر کے لئے ہی چلے جاؤ اور وہاں کے متعلق واقفیت بہم پہنچاؤ۔ساتویں نصیحت یہ ہے کہ چونکہ وہاں پر آریوں کے ایجنٹ ہیں جو مبلغوں کو غفلت میں ڈال کر اپنا کام کرنا چاہتے ہیں اس لئے ان سے بالخصوص ہوشیار رہو تم کسی پر اگر خدا کے لئے شبہ کرو گے تو ثواب کے مستحق ہوگئے اور وہ شخص اگر بد نیت نہیں ہو گانیک ہو گا تو اس کو اس لئے ثواب ہو گا کہ اس پر خدا کے لئے شبہ کیا گیا۔میری آٹھویں نصیحت یہ ہے کہ دعاؤں پر خصوصیت سے زوردو جو کام دعا سے ہو سکتا ہے وہ اور کسی ذریعہ سے نہیں ہو سکتا۔دوست و آشنا جدا ہوں گے مگر خدا جدانہ ہو گا۔ایک میاں اور بیوی خواه ایک چارپائی پر لیٹے ہوئے ہوں اور بیوی کے پیٹ میں قولنج کا درد ہو تو قبل اس کے کہ وہ اپنے خاوند کو اطلاع دے اس کی دعا کو خداسنے گا اور اس کی تکلیف کو دور کردے گا۔کیونکہ وہ علیم ہے۔اس نے اپنی علم سے وہ سامان رکھے ہیں جو اس مرض کو دور کر سکتے ہیں۔پس خدا سے دعا کرو اور اسی پر بھروسہ کرو سامان بھی اسی کے فضل سے میسر آتے ہیں۔نویں نصیحت یہ ہے کہ مومن ہوشیار ہوتا ہے۔مخالف کو وہ جواب دو جو مخاطبوں کے لئے مفید ہو۔ایک کے ملکانوں میں آریوں نے اعتراض کیا کہ اسلام تو وہ مذہب ہے جو بہن بھائی کی شادی کرا دیتا ہے (چچا تایا کے بچوں کی) اب اگر ایسے موقع پر علمی طور پر بحث کی جائے تو کم مفيد ہوگی اس لئے ہمارے دوستوں نے اللہ کے فضل سے یہ جواب دیا کہ اسلام میں تو بہن بھائیوں کی شادی نہیں ہوتی البتہ ہندو مذہب میں ہوتی ہے کیونکہ تناسخ میں ممکن ہے بہن یا کوئی اور قریبی رشتہ دار اگلے جنم میں بیوی بن جائے۔پس وہ بات کرو جو مخاطب کے لئے