انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 247

۲۴۷ سے میل جول نہ بڑھا سکے۔اس کے مقابلہ میں یہاں کے ایک مستری ہیں جو پڑھے لکھے تو واجبی ہیں مگر ان کو یہ فن آتا ہے کہ ایسے طریق پر آریوں وغیرہ سے گفتگو کرتے ہیں کہ دشمن خاموش ہو جاتا ہے۔ایک مقام پر ہمارے ایک دوست مقیم تھے وہاں ایک مولوی صاحب گئے اور جس مسجد میں ہمارے دوست مقیم تھے اس کے مصلی پر کھڑے ہو گئے کہ نماز پڑھائیں-ہمارے دوست نے ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی اس پر مولوی صاحب نے شور مچادیا کہ یہ کافر ہے اس نے ہمارے پیچھے نماز نہیں پڑھی۔دوسرے گاؤں میں جب ہمارے ان مستری صاحب کو معلوم ہوا تو انہوں نے نہایت معقولیت سے موٹے طریق پر اس بات کو اس طرح لوگوں کے ذہن نشین کر دیا کہ مولوی صاحب کو حق ہی نہ تھا کہ وہ اس مسجد میں آکر نماز پڑھاتے جب کہ اس جگہ کا امام موجود تھا۔اسی طرح جس گاؤں میں وہ مسلم ہیں وہاں کچھ آریہ پریچر (Preacher )بھی گئے وہ کسی ضرورت سے گاؤں سے باہر گئے ہوئے تھے۔جب آریوں نے گفتگوکرنی چاہی تو گاؤں والوں نے کہا کہ ہمارے ایک بھائی ہیں جو باہر گئے ہوئے ہیں وہ آئیں جو وہ فیصلہ کریں گے اسی کے مطابق ہم عمل کریں گے۔ادھر گاؤں والوں نے ان کو بلوایا انہوں نے آکر پہلے تو کھانے وغیرہ کے متعلق آریوں سے پوچھا اور پر گفتگو کرنی چاہی۔آریوں نے کہا کہ مولوی صاحب یہ برادری کا معاملہ ہے آپ ہی ان کو سمجھائیں کہ مان جائیں۔ان کا ایک بھائی با ہر گیا ہوا ہےآئے تو ہم اپنی برادری کو ملالیں گے اور ہم ان سے اس بات کی معافی لیں گے کہ آج تک ہم نے ان کو اپنے سے علیحدہ رکھ کر ان پر ظلم کیا۔مستری صاحب نے ملکانوں کو کہا کہ وہ آپ کے بھائی صاحب کہاں گئے ہیں ان کو بلاؤ تاکہ پنڈت جی کی بات پر غور کریں۔ملکانوں نے کہاوه بھائی تو آپ ہی ہیں اور اس پر انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔آگے بحث لمبی ہے اس کے دُہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔غرض یہ میل ملاپ کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے ملکانوں پر یہ اثر پیدا کرنا ہے خواہ وہ کتنے ہی دور بھاگنے والے لوگ ہوں ان کو آہستہ آہستہ میل ملاپ کے ذریعہ درست کر لیا جاسکتاہے۔پانچویں نصیحت یہ ہے کہ بار بار مرکز کو نہ چھوڑو۔اجنبیت یا لوگوں کی بے رخی وغیرہ سے گھبرانا فضول ہے ساری عمر میں سے یہ صرف ۹۰ دن ہیں جو دین کے لئے وقف کئے گئے ہیں اگر ان کو بھی یونہی کھو دو گے تو پھر یہ فعل کس طرح پسندیدہ ہو سکتا ہے۔ہاں جو پاس کے