انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 164

۱۶۴ فاصلہ پر ہو اپنی خواہش کر ڈال دینا۔یہ ابھی ابتدائی حالت میں ہے۔(۴) چوتھا علم جو اس کی شاخ ہے وہ روح کو دور بھیج دینا ہے۔اس سے انسانی روح مراد نہیں بلکہ اس سے مراد دماغ کا وہ حصہ ہے جو اثرقبول کرتا ہے جس کو متاثر دل کہتے ہیں۔وہ باہر جاتا ہے اور دوسروں کو نظر آجاتا ہے۔(۵) پانچواں حصہ اصلاح الاخلاق ہے جس کے ذریعہ بد عادتوں کو چھڑا دیا جاتا ہے جیسے چور کی عادت وغیرہ چھڑائی جاتی ہے۔۷۰واں علم، روحوں کو بلانے کا علم ہے۔بڑے بڑے سائنسدان اس علم کو پڑھ رہے ہیں جو اور علوم کو چھوڑ کر اس طرف آرہے ہیں مگر دراصل یہ وہم ہوتا ہے۔عیسائیوں کو عیسائیوں کی اور ہندوؤں کو ہندووں کی بات بتائی جاتی ہے۔ایک آدمی پر توجہ ڈالی جاتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ مجھ پر روح آگئی ہے۔کبھی الگ آتی ہے اور وہ اپنے آنے کی علامت بتاتی ہے۔مثلاً کبھی کرسی الٹ دی یا کوئی اور فعل کردیا۔روح تو نہیں آتی مگر یہ علم ہے اور صحیح علم ہے۔۷۱ واں علم، علم القیافہ ہے۔اس علم کے جاننے والے شکل دیکھ کر بناوٹ سے یہ بتادیتے ہیں کہ یہ شخص کس قسم کے عادات اور خصائل کا ہے۔اس میں کس قسم کے خواص ہیں۔دھوکا، دغا محبت ،و فاوغیرہ جذبات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔اس علم کی ایک شاخ علم البشر ہ ہے۔چہرہ کی بناوٹ سے بتادینا کہ اس کے اخلاق کس کام کے ہیں۔کانوں اور آنکھ کے فرق سے، ہونٹ ناک وغیرہ کی بناوٹ، لمبائی اور موٹائی سے ہرم کے اخلاقی کا پتہ دے دیا جاتاہے۔دوسرا حصہ اس علم کا علم الرأس ہے جس کو سرکا علم بھی کہتے ہیں۔یہ زیادہ بہترحالت میں ہے جس قدر اخلاق ہیں۔قتل ،خونریزی وغیرہ ان کا تعلق دماغ کے مختلف حصوں سے ہے۔خدا تعالی ٰنے دماغ کو کئی حصوں میں تقسیم کیا ہے اور انسان کے مختلف جذبات اور اخلاق کے لئے الگ الگ حصے ہیں۔جھوٹ، سچ، فریب، محبت وغیرہ کے لئے اس میں جداجدا کمرے ہیں۔پس اس علم کے ذریعہ سر کی پیمائش کر کے بتادیا جاتاہے کہ اس میں کو نساماده زیادہ ہے۔مثلا ًحرص کایا قناعت کا، غضب کایا برداشت کا۔اس علم کا کمال یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر دماغ کے بعض حصوں کا اپریشن کر کے کم و بیش کردیا جائے تو اس سے اخلاقی اصلاح میں بھی مدد مل سکتی ہے۔یہ علم ترقی کر رہا ہے۔