انوارالعلوم (جلد 7) — Page 159
۱۵۹ اسی علم طب کی بنیاد ہے۔مثلاً کو نین دوسری چیزوں سے مل کر کیا اثر کرتی ہے۔طب کی بنیاد اور سائنس کے شُعبدے اسی پر موقوف ہیں۔یہ بھی علمی اور عملی ہوتی ہیں۔پھر اس علم کے ایک حصے میں جسمانی چیزوں کے تجربات کئے جاتے ہیں۔ایک خاص حصہ انسان کی زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔کیمسٹری میں اس بات پر بحث ہوتی ہے کہ خون کے کیا أجزاء ہیں۔پھر دوحصے اس کے اور ہیں جو نباتات اور جمادات سے تعلق رکھتے ہیں۔۵۳ واں علم جیالوجی ہے۔اس کو علم طبقات الارض بھی کہتے ہیں۔اس علم کی کئی شاخیں ہیں۔اسی علم کی شاخوں میں سے ایک حصہ وہ ہے جو دنیا کے لئے مفید ثابت ہو رہا ہے۔وہ زلزلہ کا علم ہے۔زلزلہ سے دنیا کی بڑی تباہی ہوتی ہے۔۱۹۰۵ء میں جو زلزلہ پنجاب میں آیا تھا اس میں بیس ہزار کے قریب لوگ ضائع ہوئے تھے۔اس علم کے ذریعہ سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ زلزلہ آنے والا ہے اور اس ذریعہ سے قبل از وقت علم پاکر ہلاکت سے بچ سکتے ہیں۔اسی علم میں جو زلزلہ کے متعلق ہے زمین کی حرکات پر بحث ہوتی ہے۔اس سے عام حرکت مراد نہیں ہے بلکہ ایسی حرکت مراد ہے جیسے بعض اوقات انسان کے جسم کے اندر کوئی حصہ پھڑکنے لگتا ہے۔اسی طرح زمین کی غیر معمولی حرکات کا پتا اس علم سے لگ جاتا ہے۔شملہ میں ایک آلہ لگا ہوا ہے جس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ کہاں زلزلہ آیا ہے اور کتنے میل کے فاصلہ پر آیا ہے۔جاپان نے اس علم میں بہت ترقی کی ہے اس آلہ کو ٹیلوگراف کہتے ہیں۔اس کے نگر ان جو ہیں ان میں ایک احمدی محمد یوسف نام بھی مقرر ہوئے ہیں۔اسی آلہ کو میں نے دیکھا ہے اس کمرہ میں داخل ہوتے ہی ستون حرکت کرنے لگتا ہے۔باریک سے باریک حرکت کا پتہ لگ جاتا ہے۔دوسرا حصہ جو اس علم کا ہوتا ہے وہ طبقات الارض سے تعلق رکھتا ہے۔وہ زمین کے مختلف حصوں کو دیکھ کر بتاتا ہے کہ یہ کب بنا۔مثلا یورپ کا علاقہ بہت بعد کا بنا ہوا ہے اور ایشیاءاس قال ہو گیا تھا کہ اس پر آدمی آباد ہو سکیں۔اسی علم کے ذریعہ کانوں کا علم ہوتا ہے۔لوہا وغیرہ کب بنے۔یہ چیزیں ایک مادے سے بنی ہیں۔کوئلہ اور ہیرا ایک ہی چیز ہے صرف زمانہ کا فرق ہے۔اس فرق نے ایک کی قیمت اتنی بنادی ہے۔ایک تولہ لاکھوں روپیہ کو آئے گا اور دوسرا کئی من دس بیس پچاس روپیہ کو آجائے گا حالانکہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔اسی علم کے ماتحت علم الاوزان ہے لینی و زنوں کا علم۔ہوا ،روشنی ،رطوبت اور خشکی کا علم