انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 158

۱۵۸ تقریر سوم (جلسہ لجنہ اماءالله منعقده ۵- مارچ ۱۹۲۳ء) پچاس علوم بیان کر چکا ہوں چند اور باقی ہیں ان کو اب بیان کر دیتا ہوں۔علم سائنس وطبقات الارض ۵۱ واں علم فزکس کہلاتا ہے۔یہ حقیقت ہے اس علم کی جس کو ہمارے ملک میں سائنس کہتے ہیں اس کے کئی حصے ہیں۔ایک حصہ کانام فزکس ہے۔اس علم میں اس بات پر بحث کی جاتی ہے کہ آواز کس طرح پیدا ہوتی ہے؟ روشنی۔گرمی۔سردی کیا چیز ہیں؟ سیال چیزیں کیاہیں؟ پھراس علم کے ماتحت یہ بحث بھی ہوتی ہے کہ بجلی کیا ہے؟ مقناطیس کیا ہے؟ ذرّات کیا ہیں؟ مادہ میں کیا کیا تو تیں ہیں؟ اس کی کتنی صورتیں ہیں ؟ ٹھوس، مائع اور گیس کے جد اجد اکیا خواص ہیں؟ جس قدر مشینیں ایجاد ہوتی ہیں وہ اس علم سے بنتی ہیں۔غرض یہ علم سیال، گیس، آواز روشنی ،مقناطیس،ذرات اور اجزائے مادہ پر بحث کر تا ہے۔اس کی وجہ سے ایجادیں ہوتی ہیں۔مثلا ً ریل کا انجن اسی علم سے بنا۔کہ گرمی کی کیا طاقت ہے؟ کس طرح اس طاقت کو پیدا کیا جا تا ہے اور کس طرح بند کیا جاتا ہے؟ اسی علم نے بجلی کی روشنی پیدا کی اور پھر اسی علم سے بتایا جاتا ہے کہ کس طرح بجلی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائی جاتی ہے۔پھر اسی علم کے ذریعہ یہ بھی معلوم ہوا کہ بغیر تار کے بھی بجلی جاسکتی ہے؟ کوئی حرکت ضائع نہیں جاتی۔پھرذرّات کا علم ہے جس سے ترقی کر کے ٹیکانکلا ہے۔غرض مشینوں کا کام گیس ،سیال، اور مقناطیس کے ذریعہ چل رہا ہے اور یہ تمام اس علم کا نتیجہ ہیں اور ایجادات میں اس کا بڑا دخل ہے۔پھر اس علم کا ایک حصہ عملی کہلاتا ہے یعنی علم کتابی کو کس طرح استعمال کر کے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور ایک کینیکل کہلاتا ہے۔مشینوں پر کیا اثر پڑ تا ہے۔۵۲ وان علم کیمسٹری ہے یہ وہی ہے جس کو پرانے زمانہ میں کیمیا کہتے تھے۔دو چیزیں ملا کر تیسری چیز پیدا ہونے پر اس علم میں بحث کی جاتی ہے۔غرض یہ علم بتاتا ہے کہ مختلف چیزیں مل کر کوئی نئی چیز پیدا کرتی ہیں اور اس کے خواص میں کیا تبدیلیاں ہو جاتی ہیں۔