انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 141

۱۴۱ بیماریوں میں بعض چشموں کے پانی مفید ہوتے ہیں اور ایسا ہی بعض تیل جیسے مچھلی کا تیل وغیرہ۔غرض اس علم میں بہت بڑی تفصیل ہے اور یہ تندرستی اور بیماری اور مختلف ملکوں کی اشیاء خوردنی او ر نوشیدنی کے علم پر حاوی ہے۔سینے پرونے و کھانا کھانے کے علوم۔(۱۸) اٹھارواں علم وہ ہے جو سینے پرونے سے تعلق رکھتا ہے۔اصل معنے اس کے یہ ہیں کہ کپڑے اور فیتہ کو کس طرح لگایا جائے کہ اس کا خاص اثر دیکھنے والے پر ہوتا ہے۔یورپ نے اس فن میں بہت ترقی کی ہے اور اس کے لئے باقاعدہ اسکول اور کالج بنائے ہیں جماں کے تعلیم یافتہ او راس فن کے صاحبِ کمال بعض اوقات ہزا رہزا ر دو دو ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پاتے ہیں۔علم الالوان یعنی رنگوں کا علم دراصل اسی میں داخل ہے۔کس رنگ کے ساتھ کس قسم کا فیتہ لگانا ہے کونسی جگہ اونچی ہو اور کہاں کس قسم کی شکل رکھنی چاہئے۔غرض اس فن کو بہت بڑی وسعت دی گئی ہے۔(۱۹) انیسواں علم جو اس کا حصہ ہے وہ کانٹے کافن ہے اس کے بھی الگ کالج ہیں اور آج یہ علم بہت ترقی کر گیا ہے یعنی کپڑا کاٹا کس طرح جاتا ہے۔کس قسم کی کاٹ زیادہ خوبصورت ہو سکتی ہے اور کس طرح کاٹنے سے کپڑا کم خرچ ہو یا ضائع نہ ہو۔(۲۰) بیسواں علم کھانا پانے کا علم ہے۔اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ آٹا گوندھ کر پکالیا بلکہ جب اس کو علمی شکل دی جاتی ہے تو اس میں بہت سی باتیں داخل ہوتی ہیں اور اس میں یہ طبی باتوں کو اپنے اندر رکھتا ہے اس علم کے ماہر کو علم الاغذیہ والا شربہ کاماہر ہونا بھی ضروری ہے۔وہ دیکھے گا کہ کس حد تک ایک چیز کو گلانا چاہئے جو صحت کے لئے مفید ہو ،ہضم میں ممد ہو،غذائیت پید کرنے میں کار آمد ہو پھر جہاں ایک طرف اسے طبی پہلو کو مد نظر رکھنا ہے دوسری طرف زبان اور ذائقہ کے پہلو کو بھی زیر ِنظر رکھنا ہے۔کون کون سی چیز کیا اثر رکھتی ہے۔کھٹا اور میٹھا اگر ملائیں تو کس نسبت سے کہ دونوں ذائقے اپنی جگہ قائم رہ کر دو سرا لطیف ذائقہ پیدا کر سکیں اور پھر اگر وہ ملا کر کھائے جائیں تو کیا اثر کرتے ہیں۔غرض ایک ایک چیز کے متعلق کافی علم ہونا ضروری ہے۔اس کے خواص اور اثرات سے واقفیت لازمی ہے یہ علوم خصوصیت سے