انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 128

۱۲۸ کالے جائیں۔پھر صرف و نحو کا دخل ہو گا۔اس کے لحاظ سے یہ معنے ہوں گے پھر اس سے بھی اختلاف ہو گا۔غرض اصول فقہ میں یہ بحث ہوگی کہ کس طرح مسائل نکالے جائیں۔فقہاء کے موٹے موٹے فرقے یہ ہیں۔حنفی۔شافعی۔مالکی۔حنبلی۔حنفی زیادہ زور قرآن مجید سے اجتہاد کر کے مسائل کے ماننے پر زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں جو عقل سے ثابت ہوں وہ مانیں گے اور حدیث پر زور نہیں دیتے۔یہ مسئلہ ان کو بھول جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺکا فہم سب سے برتر ہے۔یہ حالت اب ان لوگوں کی ہے اور نہ پہلے لوگوں کا عمل قرآن مجید اور احادیث ہی پر تھاامام ابو حنیفہ اولیاء اللہ میں سے تھے۔شافعیؒ عقل کی طرف زیادہ جاتے ہیں۔مالکی بھی عقل پر زور دیتے ہیں مگر حدیث پر بھی شافعی مذہب سے زیادہ زور دیتے ہیں۔امام مالک ؒکی مؤطابہت معتبر کتاب ہے۔امام حنبل سب سے زیادہ زور حدیث پر دیتے ہیں۔پانچواں فرقہ اہل حدیث کا ہے وہ بالکل حدیث پر چلتے ہیں اور عقل کو نہیں مانتے وہ کمزور حدیث کو بھی مقدم کر لیتے ہیں حالانکہ ضرورت تو یہ ہے کہ قرآن کریم سے ثابت شدہ ہو یعنی قرآن مجید کے خلاف نہ ہو اور عقل بھی اس کو نہ ردّکرے۔پھر فقہ سے تعلق رکھنے والا تیسرا علم فتاوی سے تعلق رکھتا ہے علماء نے مسائل ضروریہ کے متعلق جو فتاوی دئیے ہیں ان سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔پانچواں علم ،اسرار شریعت کا ہے۔اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ نماز کیوں پڑھی جاتی ہے روزہ کیوں رکھا جاتا ہے غرض احکام شریعت کے وجوه بیان کرنا اسرار شریعت ہے۔اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کس حد تک اسرار شریعت معلوم ہو سکتے ہیں اور کسی حد تک بیان کر سکتے ہیں۔چھٹا علم ،اصول شریعت ہے۔یعنی شریعت کی کیا کیا بنیاد ہے مثلاً خد اتعالیٰ کی وحی سے نازل شده علوم ہوتے ہیں یا وہ اصول جو رسول کی معرفت بتائے جاتے ہیں کسی حد تک ان کے بیان کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی حد تک اجازت ہے یہ تفصیل ہوئی یعنی شریعت کے اصولوں کے بیان کرنے میں کس حد تک رسول کے اختیار میں ہے اور کسی حد تک اس کو دوسرے لوگوں پر رکھا گیا ہے۔ساتواں علم، اختلاف المذاہب کا ہے۔اس علم کے ذریہ معلوم ہو گا کہ مسلمانوں کے