انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 101

۱۰۱ نجات میں سے ایک شعریہ تھا۔الا کل شیء ما خلا الله باطل و كل نعیم لا محالة زائل ترجمہ !سنو ہر ایک چیز سوا اللہ کے ہلاک ہونے والی ہے اور ہر ایک نعمت آخر ضرور ضائع ہو ہوجانے والی ہے۔اس پر اس صحابیؓ نے کہا یہ غلط ہے جنت کی نعمتیں کبھی ضائع نہیں ہوتیں۔چونکہ عربوں میں بڑوں کا ادب بہت کیا جاتا تھا اس شاعر نے بہت شور مچایا اور کہا کہ اے مکہ کے شرفاء ! تم میں پہلے تو مہمان کو اس طرح ذلیل نہیں کیا جاتا تھا۔اس پر طیش میں آکر ایک کافر نے اسی صحابیؓ کو زور سے مُکامارا کہ اس کی ایک آنکھ کو سخت صدمہ پہنچا۔اس مجلس میں وہ شخص بھی بیٹھا ہوا تھا جس نے اس صحابی کو اپنی پناہ میں لے رکھا تھا اس نے کہا میری پناہ میں سے نکلنے کا کیا نتیجہ نکلا اب بھی وقت ہے تو میری پناہ میں آجا۔صحابیؓ نے کہامیری ایک آنکھ کو اگر تکلیف ہوئی تو کیا پرواہ ہے کیا تو سمجھتا ہے کہ میں اس سے تیری پناہ میں آجاؤں گا؟ میری تو دوسری آنکھ بھی انتظار کر رہی ہے کہ خدا کی راہ میں اس کو بھی وہی دکھ پہنچے جو پہلی کو پہنچا ہے۔اس واقعہ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ جن لوگوں کو یقین ہو کہ ہماری تکالیف کا نیک بدلہ ملنے والا ہے وہ ان تکالیف کو تکالیف ہی نہیں سمجھتے۔بغیر تناسخ کے خد اکے عدل پر اعتراض پڑ تاہے دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اگر یہ نہ تسلیم کیا جائے کہ اختلاف حالات پچھلے اعمال کے بدلہ میں تھا تو اس سے خدا تعالی ٰکے عدل پرحرف آتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک اگر رو حیں آزاد شئے ہیں اور کہیں سے پکڑ کر خدا تعالیٰ نے انسان کے جسم میں ڈال دی ہیں تو بے شک اس کے انصاف پر حرف آتا ہے۔لیکن اگر روحیں انسانی جسم سے ہی پیدا ہوتی ہیں اور بیٹے کی روح اس نطفہ سے ہی پیدا ہوتی ہے جو باپ سے پیدا ہوتا ہے تو اس میں ان قوتوں کا پیدا ہونا جو باپ میں تھیں اور اس کا پیدا ہو کر ان حالات کا وارث ہونا جو باپ کو میسرتھے ایک قدرتی امر ہے اس میں کوئی ظلم نہیں اور جب کہ عقل سلیم صریح طور پر اس امر کی تصدیق کرتی ہے تو اعتراض صرف بے عقلی کا نتیجہ رہ جاتا ہے۔دوم یہ کہ جیسا کہ پہلے ثابت کیا جا چکا ہے پرایک تغیر کا بدلہ انسان کو مل جاتا ہے۔پس جب کہ دنیوی تکالیف کابدلہ بھی انسان کو مل جائے گا تو اس تغیر کے سبب سے خدا تعالیٰ پر اعتراض کیونکر وارد ہوا؟