انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 69

بیعت کرنیوالوں کیلئے ہدایات (تقریر حضرت فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی فرمودہ ۲ ؍مئی ۱۹۲۱؁ء) ۲ ؍ مئی بعد نماز مغرب ایک صاحب جو نا گڑھ (گجرات کاٹھیاواڑ) کے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں بیعت کےلئے پیش ہوئے۔چونکہ ان کو دارالامان (قادیان) آئے ہوئے دو تین دن ہی ہوئے تھے اور ایک ایسے علاقے سے آئے تھے جہاں احمدیت کے متعلق واقفیت رکھنے والے بہت کم لوگ ہیں اس لئے حضور نے بیعت لینے سے قبل انہیں مخاطب کرکے ایک تقریر فرمائی جو اندھیرے میں جس قدر ضبط کی جاسکی درج ذیل کی جاتی ہے۔احباب اس سے جہاں خود فائدہ اُٹھائیں وہاں غیر احمدیوں میں بھی اس کی اشاعت کریں تا کہ انہیں معلوم ہو کہ سلسلہ احمدیہ میں کس طرح اور کن لوگوں کو داخل کیاجاتا ہے۔حضور نےفرمایا :- بیعت کا معاملہ چونکہ ایک اہم معاملہ ہے اس لئے قبل اس کے کہ آپ بیعت کریں مَیں چند باتیں آپکو سُنانا چاہتا ہوں۔سمجھ کر بیعت نہ کرنے کا نقصان آگر آپ اس وقت پوری تحقیق کرکے سلسلہ میں داخل نہ ہوئے اور اچھی طرح سمجھ کر بیعت نہ کی تو ممکن ہے جب آپ مخالفین کی باتیں سنیں تو اپنے اقرار پر قائم نہ رہ سکیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ کے دل پر