انوارالعلوم (جلد 6) — Page 529
’’اگر تم میں سے دو شخص زمین پر کسی بات کیلئے میل کرکے دُعا مانگیں وہ میرے باپ کی طرف سے جو آسمان پر ہے ان کے ہوگی۔‘‘(متی باب ۱۸ آیت ۱۹)(نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزاپور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) اب اے شہزادہ اس معیار کے مطابق کون سا مذہب سچّا ثابت ہوگا؟وہ جس نے اس قسم کا انسان پیدا کیا ہے جس کا ہم پہلے ذکر کرآئے ہیں یا وہ جس میں اس کا کچھ بھی نشان نہیں ہے؟اگر یہ سچ ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے تو اسلام کے اس شریں پھل کے مقابلہ میں مسیحیت کس پھل کو پیش کرتی ہے؟ اوراگر یہ سچ ہے کہ کانٹوں کو انگور نہیں لگتے تو اسلام اگر جھوٹا ہے تو اس میں انگور کیونکر لگ گئے؟ اور مسیحیت اپنی موجودہ صورت میں خدا تعالیٰ کی پسندیدہ ہے تو اس میں کیوں کانٹے ہی کانٹے پیدا ہوتے ہیں؟ کیا آج ساری مسیحی دنیا میں کوئی ایک بھی شخص ہے جو مسیح موعودؑ سے آدھے نہیں سو ویں حصہ کے برابر بھی نشان دکھا سکے بلکہ ایک بھی نشان دکھا سکے؟ حضرت مسیحؑتو فرماتے ہیں کہ اگر ایک رائی کے برابر بھی تم میں ایمان ہو تو تم برے بڑے کام کرسکتے ہو مگر کیا تمام عالم مسیحیت میں ایک بھی آدمی رائی کے دانہ برابر ایمان نہیں رکھتا؟ اے شہزادۂ ویلز ! زندہ مذہب اپنی زندگی کے آثار رکھتا ہے اور اسلام کی زندگی کے اثر کو ہم اپنے نفس کے اندر محسوس کرتے ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ تمام نشانات اور تمام قبولیتیں مسیح موعود ؑکےساتھ ختم ہوگئیں اگر ایسا ہوتا تو ہم اسلام کو بھی مُردہ مذہب سمجھتے ہم یقین رکھتے ہیں کہ اسلام کی برکات ہمیشہ کے لئے جاری ہیں اور ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر اب مسیحی دنیا اسلام اور مسیحیت کا اثر دیکھنے کے لئے تیار ہو تو اللہ تعالیٰاچھے درخت میں اچھے پھل لگا کر دکھا دیگا اور جو اس کا پیارا بیٹا ہے۔اسے مچھلی کی جگہ سانپ نہیں دے گا نہ روٹی کی جگہ پتھر بلکہ اس کے لئے کھولے گا اور اس کی دعا کو سنے گا۔پس اے ہمارے واجب التعظیم بادشاہ کے واجب التعظیم ولی عہد! اگر آپ باوجود ان نشانات اور صداقتوں کے جو اوپر مذکور ہوئیں ابھی یہ خیال کریں کہ خدا کے تعلق اور محبت کے معلوم کرنے کیلئے اسوقت بھی کسی نشان کی ضرورت ہے تو ہم آپ کی خدمت میں درخواست کرتے ہیں کہ آپ اپنے رسوخ سے کام لے کر پادریوں کو تیار کریں جو اپنے مذہب کی سچائی کے اظہار کیلئے بعض مشکل امور کیلئے دُعا مانگیں اور بعض ویسے ہی مشکل امور کیلئے جماعت احمدیہ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور التجا کرے۔مثلاً سخت مریضوں کی شفاء کے لئے جن کو بذریعہ قرعہ اندازی کے آپس میں تقسیم کرلیا جائے پھر آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کس کی سنتا ہے اور کس کے منہ پر دروازہ بند کردیتا ہے؟ اور اگر وہ ایسا نہ کرسکیں اور ہرگز نہ کریں گے کیونکہ ان کے *نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء