انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 528

کیونکہ وہ ان احکام کی خلاف ورزی نہ کرتے تھے بلکہ اخلاقی احکام کی خلاف ورزی کرتے تھے لیکن کیا مسیح علیہ السلام کی آمد سے وہ احکام بھی معاف ہوگئے ہیں؟ اگر نہیں تو کون سی لعنت ہے جو مسیح علیہ السلام نے اٹھالی؟ اصل بات یہی ہے کہ دل مرگئے ہیں اور خدا کے احکام سے آزادی حاصل کرنے کے لئے ان کو لعنت کہا جاتا ہے اور بے گناہ مسیحؑ کو گناہ میں ملوث کیا جاتا ہے ورنہ خود شریعت کو لعنت قرار دینے والے شریعت کے احکام سے کہیں زیادہ قانون بنارہے ہیں۔غرض دین بگڑ گئے حالتیں اور بدل گئیں۔اس لئے ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کی توحید کے قائم کرنے کے لئے اور اس کو خدا کے احکام پر چلانے کے لئے پھر کوئی ہدایت آتی اور وہ اسلام ہے۔مگر اے صاحبِ رفعت شہزادہ! ان جھگڑوں میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں مسیح علیہ السلام نے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کے لئے خود ایک معیار مقرر کردیا ہے اور وہ اب تک انجیل میں لکھا ہوا موجود ہے مگر لوگ آنکھیں رکھتے ہوئے اسے نہیں دیکھتے اور دل رکھتے ہوئے اسے نہیں سمجھتے اس نشان کے ماتحت اس امر کا آسانی سے فیصلہ ہوسکتا ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا ذریعہ اسلام ہے یا مسیحیت ؟ اور وہ معیار یہ ہےکہ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں:- ’’اچھے درخت میں بُرا پھل نہیں لگتا اورنہ بُرے درخت میں اچھا پھل لگتا۔پس ہر ایک درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔اس لئے کہ لوگ کونٹوں سے انجیر نہیں توڑتے اور نہ بھٹکٹیا سے انگور توڑتے۔‘‘(لوقا باب ۶ آیت ۴۳- ۴۴ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) اور اسی طرح ایمان کے ثمرات کے متعلق فرماتے ہیں:- ’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر تمہیں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہوتا تو اگر تم اس پہاڑ سے کہتے کہ یہاں سے وہاں چلا جا تو وہ چلا جاتا اور کوئی بات تمہاری ناممکم نہ ہوتی۔‘‘ (متی باب ۱۷ آیت ۲۰) ٭ پھر دُعا کی قبولیت کے متعلق فرماتے ہیں کہ :- ’’جو کچھ دعا میں ایمان سے مانگو گے سو پاؤگے۔‘‘ (متی باب ۲۱۔آیت ۲۲)٭ پھر فرماتے ہیں کہ :-