انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 400

انسان مارا جاتا ہے اس کا اس کی بیوی بچوں پر کیسا اثر پڑتا ہے مگر بکری ماری جائے توا سکے بچے کوپروا بھی نہیں ہوتی اوراگرغم ہوتا بھی ہے توصرف چند دن کا پھر انسان پر شریعت کی پابندیاں ہوتی ہیں مگر دوسرے جانوروں پر نہیں ہوتیں۔مخلوق کا پیدا کرنا خدا کے غنٰی کے خلاف نہیں صفات رحمت کے علاوہ خدا تعالیٰ کی صفت غناء پر بھی اعتراض کیاجاتا ہے اور وہ یہ کہ اگر خدا غنی ہے تو اس نے مخلوق کو پیدا کیوں کیا؟ کیا وہ محتاج ہے کہ اسے مخلوق پیدا کرنے کی ضرورت پیش آئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایک فقیر کسی سخی کو کہہ سکتا ہے کہ اگر میں نہ ہوتا تو تُو سخاوت نہ کرسکتا اس لئے تو میرا محتاج ہے تو ایک بندہ بھی خدا کو کہہ سکتا ہے کہ خدا میرا محتاج ہے۔مگر کبھی کسی نے نہ سنا ہوگا کہ کسی فقیر نے کہا ہو کہ فلاں سخی محتاج تھا جس سے مَیں نے آٹھ آنے یا چار آنے لئے اور تب جاکر اسکی احیتاج پوری ہوئی۔تعجب ہے کہ ایک شخص آٹھ آنے یا چار آنے لیکر تو کہتا ہے کہ یہ امر میری احتیاج پر دلالت کرتا ہے نہ دینے والے کی احتیاج پر مگر خدا کے متعلق انسان زمین و آسمان اوران کے اندر جو چیزیں ہیں ان کو لیکر کہتا ہے کہ خدا میرا محتاج ہے میں نہ ہوتا تو یہ چیزیں کون استعمال کرتا؟ دوسرا جواب یہ ہے کہ احتیاج اس چیز کی ہوتی ہے جو مستقل حیثیت رکھتی ہے اور جو ہماری اپنی صفت کا ظہور ہو وہ احتیاج نہیں کہلاتا۔مثلاً یہ احتیاج ہے کہ ایک ہمارا کام بغیر کسی اور شخص کی مدد کے نہیں ہوسکتا لیکن اپنی کسی صفت کا اظہار احتیاج نہیں ہے بلکہ اسے قدرت کہتے ہیں چونکہ خدا تعالیٰ کسی غیر چیز کی مدد نہیں چاہتا وہ محتاج نہیں کہلا سکتا وہ تو اپنی قدرت سے ایک عالم کو پیدا کرتا ہے پس وہ محتاج نہیں بلکہ مُقْتَدِر ہوا اوراس نے ایک چیز پیدا کی اور اسے چن لیا اور اسے بزرگی دی۔خدا تعالیٰ کی قدرت پر اعتراض اور اس کا جواب خدا تعالیٰ کی صفت قدرت پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر وہ قادر مطلق ہے تو اتنی دیر میں کیوں پیدا کرتا ہے؟ خصوصاً یہ اعتراض زمین و آسمان کی پیدائش پر کیا جاتا ہے جس کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے کہ خدا نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا۔