انوارالعلوم (جلد 6) — Page 375
کی ہی ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی اوروجود ہی نہیں جب اس کے سوا کوئی اور وجود ہی نہیں تو اس کے سوا کوئی معبود بھی نہیں۔قرآن کریم کی آیت اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًا(صٓ :۶) سے بھی یہ لوگ استدالال کرتے ہیں کہ خدا کے سوا اور کچھ نہیں کیونکہ کہتے ہیں کہ کفار نے کلمہ شریفہ کے معنے یہی سمجھے ہیں کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ خدا کاغیر نہیں بہیں بلکہ خدا کاجزو ہیں تبھی وہ کہتے ہیں کہ اس نے تو اتنے معبودوں کو ایک ہی معبود بنا دیا اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ چونکہ کفار جو عربی کے ماہر تھے کلمہ شریفہ کے یہی معنی سمجھتے ہیں اور قرآن کریم نے اس کا رد بھی نہیں کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو معنے انہوں نے کلمہ شریفہ کی طرف منسوب کئے ہیں ان کو صحیح تسلیم کرلیا گیا ہے۔تیسری دلیل یہ لوگ آیت نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ(قٓ: ۱۷) سے پیش کرتے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم رگ جان سے بھی انسان کے زیادہ قریب ہیں۔اب یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ کوئی غیر وجود رگِ جان سے زیادہ قریب ہے۔پس اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ہم خدا کا جزو ہیں کیونکہ وجود مطلب وجودِ مقیّد سے زیادہ قریب ہوتا ہے چوتھی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے کہ ھوَالْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ(الحدید : ۱۶)پس جب خدا ہی اوّل ہے وہی آخر وہی اندر وہی باہر تو اور کیا چیز باقی رہی؟ ایک دلیل یہ بھی دیتے ہیں کہ قرآن کریم میں آیا ہےوَلِلہِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ(الرعد:۱۶) زمین و آسمان میں جو کوئی بھی ہے خدا کو ہی سجدہ کررہا ہے۔اب اگر خدا کے سوا دنیا میں کچھ اور بھی ہے و پھر یہ غلط بات ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اور وجودوں کو بھی سجدہ کرتے ہیں۔اگر بُت خدا نہیں تو معلوم ہوا کہ خدا کے سوا اورکوبھی سجدہ کیاجاتا ہے اور یہ آیت درست نہیں رہتی اس لئے معلوم ہوا کہ وہ بھی خدا ہی ہیں۔اگر کہا جائے کہ اگر یہ درست ہے تو پھر شرک کیا چیز ہے اور کیوں لوگوں کو دوسری چیزوں کے آگے سجدہ کرنے سے روکا جاتا ہے تو وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ سب کچھ خدا ہی ہے پھر بھی بعض مظاہر کی پرستش شرک ہی کہلائے گی۔کیونکہ جو لوگ بتوں کو سجدہ کرتے ہیں وہ انہیں خدا سمجھ کر نہیں کرتے۔بلکہ خدا قائم مقام سمجھ کر کرتے ہیں۔پس چونکہ وہ یہ خیال کرتے ہوئے ان کو سجدہ کرتے ہیں کہ یہ خدا نہیں ہیں اس لئے انکا یہ فعل شرک ہے۔