انوارالعلوم (جلد 6) — Page 374
بیان ہوئی ہیں۔وحدت وجود اس جگہ ایک اور بات بھی میں بیان کرنی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفت احدیت اور خالقیت یعنی خدا کا ایک ہونا اور کوئی شریک نہ ہونا اور خالق ہونا ان امور کو مدِّ نظر رکھ کر بعض لوگوں نےبعض شبہات پیدا کئے ہیں۔وہ خیال کرتے ہیں اور افسوس کہ مسلمانوں میں سے بھی بعض اس خیال میں مبتلاء ہوگئے ہیں کہ خدا کا ایک ہونا اس کی صفات کے لحاظ سے یا الوہیت کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ ہر طریق سے ہے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں خدا ہی خدا ہے اور کچھ نہیں ان کے اس خیال کو فلسفہ کے اس مسئلہ سے بھی تقویت مل گئی ہےکہ مادہ مادہ سے ہی پیدا ہوسکتا ہے جو چیز نہ ہو وہ وجود میں نہیں آسکتی چونکہ وحدت وجود کا خیال ہمارے ملک میں عام ہے خصوصاً فقراء اکثر اس مرض میں متبال ہیں اس لئ اس خیال کی بے ہودگی کو خوب سمجھ لینا چاہئے جہاں بھی فقیر ہمارے ملک میں پائے جائیں وہاں ان کا فقرہ اللہ ہی اللہ ہے اور سب کچھ اللہ ہی ہے بھی سنائی دے۔وہ کہتے ہیں جب خدا ایک ہے تو اگر کوئی دوسراجود مانا جائے تو دو ہوگئے اور خدا کی یکتائی باقی نہ رہی مخلوق کی مثال وہ دریا سے دیتے ہیں جس پر حباب تیررہے ہوں جس طرح وہ حباب الگ وجود نظر آتے ہیں مگر درحقیقت خدا کے سوا کچھ نہیں ہے جس طرح حباب پانی کی ہی ایک شکل ہے اسی طرح دنیا میں جو کچھ ہے یہ بھی خدا ہی کی ایک شکل ہے مگر اس قسم کی مثالیں بالکل باطل ہیں۔مثلاًیہی حباب والی مثال لےلو۔حباب کیا ہے؟ پانی میں ہوا داخل ہوکر حباب بن گیا اسی طرح مخلوق کی مثال حباب کی سی ہے تو یہاں بھی خدا کے سوا کوئی اور وجود ماننا پڑے گا جو ہوا کی طرح خدا میںداخل ہوکر اس کی مختلف شکلیں بنادیتا ہے نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ تِلْکَ الْخُرافَاتِ۔بہر حال ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ دراصل چیز ایک ہی ہے ااگےاس کی شکلیں مختلف ہیں اس کے لئےانہوں نے مذہبی دلیلیں بھی بنا رکھی ہیں۔مثلاً وہ یہ کہتے ہیں کہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے معنے ہیں خدا کے سوا اورکوئی معبود نہیں ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دُنیا میں ہزاروں لاکھوں وجودوں کی عبادت کی جاتی ہے تو کیا کلمہ شریفہ میں یہ دعویٰ جھوٹا کیا گیا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور معبود نہیں پس کلمہ شریفہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے سوا جن چیزوں کی پرستش کی جاتی ہے وہ بھی خدا کا ہی جزو ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خواہ جس کی بھی پرستش کرو آخر پرستش تو اللہ