انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 370

کی بھی یہی حالت ہوگی اس لئے انہوں نے سب سے بڑی عظمت خدا کی یہ سمجھی کہ جب وہ سوتا ہوگا تو لچھمی جسے وہ دولت کی دیوی سمجھتے ہیں پرمیشور کے پاس آتی اور اس کے پاؤں سہلاتی ہوگی۔اس طرح عیسائیوں کے عجیب و گریب خیالا ت ہیں۔آج کل ان میں رواج ہے کہ لوگوں کو مذہب کی طرف توجہ دلانےکے لئےنانک دکھاتے ہیں ایک قصّہ مشہور ہے جس میں یہ نقشہ کھینچا جاتا ہے کہ یسوع کو صلیب پر چڑھانے لگے ہیں ایک دوسرا کمرہ ہے جس میں خدا سو رہا ہے ایک شخص جاتا ہے اور جاکر دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور کہتا ہے کہ باپ اُٹھ بیٹا صلیب پر چڑھنے لگا ہے اس پر خدا آنکھیں ملتا ہوا اُٹھتا ہے اور کہتا ہے میری روح کو شیطان ہی لے جائے اگر مجھے اس بات کا پتہ لگا ہو۔پس پسندیدہ طریق یہی ہے کہ اپنی طرف سے خدا کے متعلق کوئی بات نہ تجویز کی جائے۔جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖٓ (الانعام:۹۲)اپنی طرف سے خدا کے متعلق باتیں بنانےوالےکچھ کا کچھ بنا دیتے ہیں۔جیسے عیسائیوں نے اسے عادل بنایا اورپھر کہہ دیا کہ وہ رحم نہیں کرسکتا دیکھو وہ کہاں سے کہاں نکل گئے تو خدا تعالیٰ کے اسماءوہی درست ہوسکتے ہیں جو خدا نے خود بتائے ہیں۔خدا کے کسی فعل سے بھی نام نہیں بناناچاہئے۔ایک اور سوال ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ اچھا ہم اپنی عقل سے تو خدا کا کوئی نام تجویز نہ کریں۔لیکن جو باتیں خدا نے اپنی طرف خود منسوب کی ہیں ان سے نام بنالیں تو کیا حرج ہے؟ میرے نزدیک اس طرح بھی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ کا فعل شرائط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔لیکن نام میں وہ بات نہیں ہوسکتی جیسے آتا ہے یُضِلُّ بِہٖ اِلاَّ الْفٰسِقِیْنَ(البقرۃ: ۲۷) اب اگر کوئی خدا کو یَا مُضِلُّ کرکے کخاطب کرےے تو یہ درست نہیں ہوگا۔کیونکہ یُضِلُّ کا فعل ایک شرط کے ساتھ استعمال ہوا ہے جو نام سے ظاہر نہیں ہوتی خدا تعالیٰ کے نام وہی ہوسکتے ہیں جو اس نے خود بتائے ہیں۔یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں یا پھر مسیح موعودؑ نے بتائے ہیں کیونکہ خدا کے رسول اپنے پاس سے نام نہیں تجویز کرتے بلکہ الہام الٰہی سے ان کو ان پر مطلع کیاجاتا ہے۔