انوارالعلوم (جلد 6) — Page 369
پائی جاتی ہیں اور وہ غالب ہے اور حکمت والا ہے۔یہ وہ نام ہیں جنکےذریعہ سے خدا تعالیٰ بندوں سے تعلق رکھتاہے یا جن کےذریعہ تمہارے لئے اپنے قرب کا سامان پیدا کرتا ہےیا جن کےذریعہ بندہ کو اپنے سے جُدا ثابت کرتا ہے۔نام عربی میں صفت کیلئے بھی آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے جونا م قرآن اور احادیث میں آئے ہیں ان سے مراد صفات ہی ہیں اوران میں سے موٹے موٹے نام یہ ہیں۔قدوس،سلام ،مؤمن ،مھیمن ،عزیز،جبار، متکبر، خالق،باری ، مصوّر ، حلیم،علیم ،رزاق،سمیع ،بصیر ،حفیظ ،کریم ،محی، قیوم ،رؤوف ،رحیم ، غنی ،صمد ، ودود۔ان ناموں کے بتانے کی غرض یہ ہے کہ بندہ ان ناموں کےذریعہ سے معلوم کرسکے کہ وہ خدا سے کس کس طرح تعلق پیدا کرسکتا ہے۔خدا کے لئے نام تجویز کرنا اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ خدا نے کہا ہے کہ میرے اچھے نام ہیں تو کیا ہم خود بھی کوئی اچھا نام دیکھ کر خدا کی طرف منسوب کردیا کریں؟ میرے نزدیک ایسا نہیں کرنا چاہئے۔وجہ یہ کہ اس میں بڑی بڑی غلطیاں سرزد ہوجاتی ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلِلہِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْہُ بِھا۰۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕہٖ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ(الاعراف:۸۱)تمام صفات حسنہ خدا کی ہیں پس تم انکے ساتھ اسے پکارو اوران لوگوں کو جو خدا تعالیٰ کے ناموں کے بارہ میں اپنی طرف سے باتیں بنالیتے ہیں تم انکو چھوڑ دو۔چونکہ انسان جب خود عقل سے صفات الٰہیہ پر غور کرتا ہے تو کچھ کا کچھ بنا لیتا ہے اس لئے اس طرح کرنا ٹھیک نہیں۔ہاں اگر کوئی شخص جو ش محبت میں ایسا کر بیٹھے تو ہم اسےبُرا بھی نہیں کہں گے۔جیسے مثنوی والے نےایک قصہ لکھا ہے کہ ایک گڈریاں کہہ رہا تھا کہ اگر خدا مجھے مل جائے تو مَیں اس کی جوئیں نکالوں،اسے دُودھ پلاؤں ،اس کے پاؤں دباؤں۔حضرت موسیٰؑ نےپاس سے گذرتےہوئے جب یہ سُنا تو اسے ڈانٹا کہ اس طرح نہ کہو۔خدا تعالیٰ نے حضرت موسٰی کو فرمایا تم نے اس کا دل کیوں توڑا۔اس کا اسی قدر علم تھا یہ اپنے علم کے مطابق اظہار محبت کر رہا تھا لیکن اگر یہ خیال جو جوش محبت میں گڈریا ظاہر کررہا تھا اس کا عقیدہ بن جاتا اور دوسرے لوگ بھی اس کو سیکھتے تو خدا تعالیٰ کے متعلق کیسا بَھدّا خیال دنیا میں باقی رہ جاتا۔چنانچہ ہندوئوں میں اسی قسم کے خیالات نے بڑی ابتری پھیلائی ہوئی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جب پر میشور سوتا ہے تو لچھمی اس کے پاؤں سہلاتی ہے۔چونکہ ان کو دولت سے بہت محبت ہے اس لئے انہوں نے سمجھا کہ پرمیشور