انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 338

ماننے والوں پر کرتے تھے۔کیونکہ ان کا اعتراض تو یہی تھا کہ خدا کو ماننے والے نیکی لالچ کی وجہ سے کرتے ہیں۔لیکن اگر نیکی کی یہ تعریف ہے کہ جس سے اپنی ذات کو سب سے زیادہ خوشی یا نفع پہنچے توپھر ایک دہریہ بھی تو نیکی کی خاطر نہیں بلکہ خوشی اور نفع کی خاطر کرتا ہے پس اگر خدا کو ماننے والا نیکی خدا کی خوشی کی خاطر کرتا ہے یا بدی سے اس کی سزا سے ڈر کر بچتا ہے تو اس پ اعتراض کیوں ہو؟ بعض یورپ کے فلاسفر نیکی کی تعریف یہ کرتے ہیںکہ نیکی ایک فرض کانام ہےمگر یہ تعریف بھی ان کےکام نہیں آسکتی۔کیونکہ فرض وہ چیز ہےجسے کوئی دوسرا وجود ہمارے لئے مقرر کردیتا ہے۔اگر نیکی کوفرض قرار دیاگیا توفرض مقرر کرنے والے وجود کو بھی ماننا پڑے گا۔غرض منکرین خدا کا یہ دعویٰ کہ ان کے کاموں کا مقصد خدا پرستوں سے اعلیٰ ہےکیونکہ وہ نیکی نیکی کی خاطر کرتے ہیں ایک دھوکا ہے ایک فریب ہے کیونکہ وہ خدا کو چھوڑ کر مجبور ہیں کہ نیکی کی تعریف یہ کریں کہ جس سے اپنی ذات کو سب سے زیادہ خوشی ہو یا فائدہ ہو اور اسی تعریف کے ماتحت وہ لالچ کے الزام سے بچتے نہیں بلکہ اور بھی زیادہ اس الزام کے نیچے آجاتے ہیں ان کے تمام کام اپنے ذاتی نفع اور ذاتی فائدہ کے لئے ہوتے ہیں۔نیکی بدی کے متعلق مؤمن کا مقام دوسرا اور حقیقی جواب دہریوں کے اعتراض کا یہ ہے کہ تم نے مؤمن کےکاموں کا جو مقصد قرار دیا ہے وہ فرضی ہے پہلے تم نے فرضی طور پر ایک بات بنائی ہے اور پھر اسے مؤمن کی طرف منسوب کردیا ہے۔یہ کس وجہ سے فرض کرلیا گیا ہے کہ ایک خدا کو ماننے والا دل سے تو یہ چاہتا ہے کہ بدی کرے مگرخدا کے خوف سے بدی نہیں کرتا یا یہ کہ وہ دل سے تو چاہتا ہے کہ نیکی کے کام نہ کرے مگر لالچ کی وجہ سے نیک کام کرتا ہے۔ایک سچّے مؤمن پر یہ اتہام ہے۔وہ اس مقام سے بہت بالا ہوتا ہے وہ اس لئے نیکی نہیں کرتا یا ابدی سے اجتناب نہیں کرتا کہ خدا دیکھتا ہے اس سے انعام ملے یا وہ سزا دیگا بلکہ اس لئے نیکی کرتا اوربدی سے بچتا ہے کہ خدا تعالیٰ اسے یونہی کہتا ہے۔پس چونکہ وہ خدا تعالیٰ کا ماننے والا ہے وہ اس کے حکم کو بجالانا اپنا فرض منصبی سمجھتا ہےقطع نظر اس کے کہ کس جزاء کی اُمید یا سزا کا خوف اس کے دل میں ہو۔تیسرا جواب یہ ہے کہ نیکی کرنےپرثواب کو اوربدی کرنے پر عتاب کو مدِّ نظر رکھنا تو ہمارے مذہب میں نہایت ہی ادنیٰ بات سمجھی جاتی ہے۔اگر کوئی مؤمن یہ کہے کہ مَیں نمازیں اسلئے پڑھتا ہوں کہ