انوارالعلوم (جلد 6) — Page 21
وغیرہ لیڈروں کی مثال تو ایسی ہے کہ جیسے کوئی گاڑی یا موٹر جدھر جارہی ہو۔وہ چلتی جائے اور ایک شخص پیچھے ہاتھ رکھ دے اور کہے کہ میں اس کو چلا رہا ہوں۔لیکن آنحضرت ؐ نے جدھر گاڑی چل رہی تھی ادھر سے اس کا رُخ پلٹ کر دوسری طرف کو پھیر دیا۔زرتشی دو خدائوں کے قائل تھے۔آپ نے ان سے یہ عقیدہ چھڑویا۔عیسائی حضرت مسیح ناصری کو اپنے گناہوں کا کفاّرہ بنا کر اپنی نجات ان کی صلیبی موت میں جانتےتھے۔اور اسی پر بھروسہ کئے بیٹھے تھے۔آپ نے اس کے خلاف آواز بلند کی جو ان کے وہمی باغات کو جلا کر خاکستر کرگئی۔قوم نے آنحضرت ﷺسے کیاسلوک کیا آپ کی قوم آپ کی بات ماننے کے لئے تیار نہ تھی بلکہ آپ کے خلاف کھڑی ہوگئی۔اور تیرہ سال تک آپ کو بیشمار تکالیف دیتی رہی۔پھر وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہوتے ان پر نئے سے نئے مظالم توڑے گئے۔اور عورتوں کو اونٹوں سے باندھ کر چیرا گیا۔گرم ریت پر لٹائے گئے اور ان کو مارا گیا۔اوراتنا مارا گیا کہ وہ بے ہوش ہوگئے۔اورجب ان کو ہش آتی بُتوں کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا مگر پھر بھی جب وہ خدا کا ہی نام لیتے تو ان کو اور عذاب دیتے۔اس فتنہ کا حال حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو زر غفاریؓ نے جب سنا کہ مکّہ میں ایک شخص نے خُدا کا رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو انہوں نے اپنے بھائی کو بھیجا۔لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک اس کو پہنچنے نہ دیا۔اورواپس چلا گیا۔پھر وہ خود آئے مگر کسی سے پوچھتے بھی نہ تھے کہ کوئی دھوکا نہ دیدے حضرت علیؓ سے ملاقات ہوئی۔بڑی رد وکدّ کے بعد انہوں نے اپنا مقصد ظاہر کیا کہ میں آنحضرت ؐ کو دیکھنے آیا ہوں۔حضرت علیؓ نے ان کو کہا کہ میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔جب کوئی غیر شخص نظر آئیگاتو میں جھٹ ایک طرف ہوکر بیٹھ جایا کرونگا۔اور تم آگے نکل جایا کرو۔اسی طرح حضرت ابو زؓ حضرت علی ؓکے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پہنچے اورایمان لے آئے۔مگر ان پر یہ اثر ہوا کہ ایمان لاکر خاموش نہ رہ سکے۔مکان سے نکلتے ہوئے کلمہ شہادت زور سے پڑھا۔اس پر مشرکین جمع ہوگئے اورآپ کو مارنے لگے۔اورآپ بیہوش ہوگئے۔بعض لوگوں نے آپ کو چھڑادیا اوراسی طرح ہوش آنے پر آپ نے پھر ایسا ہی کیا۔لوگ پھر مارنےلگے۔(بخاری باب بنیان الکعبۃ باب اسلام ابی زرؓ) ایسی ایسی مصیبتیں تھیں جو آنحضرتؐ اور صحابہؓ کو پہنچائی گئیں۔ان حالات میں آپ کے اصحاب کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی اور کفار نے ان کا وہاں تک تعاقب کیا۔مگر وہاں کے