انوارالعلوم (جلد 6) — Page 14
مشین کام کرتی ہے اسی طرح خدا کرتا ہے۔ایسے بھی انسان ہیں جو کہتے ہیں پیدا کرنے والا خدا نہیں چیزیں خود بخود پیدا ہوتی ہیں۔کچھ اور ہیں جو کہتے ہیں کہ صحت خدا سے آتی ہے اور بیماری اور سے۔یہ پار سی لوگ ہیں۔اسی طرح وہ یہ کہتے ہیں کہ نیکی اور کی طرف سے آتی ہے اور بدی اور کی طرف سے۔کلامِ الٰہی کے متعلق اختلاف غرض صفات یا افعال الٰہی میں بھی اختلاف ہے۔بعض کہتے ہیں خدا کی طرف سے کلام آتا ہے۔بعض کہتے ہیں کہ جو انسان کے دل میں خیال آتا ہے وہ وحی ہے اسی کے ماتحت رسالت بھی آجاتی ہے۔رسولوں کے متعلق بھی اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ رسول بھی محض چھٹی رسان ہوتے ہیں اوران کی طرف عیب منسوب کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ان کے وجود اور ہمارے وجود میں کوئی فرق نہیں اور بعض کہتے ہیں نعوذ باللہ وہ خدا ہی کا وجود ہوجاتے ہیں اور بشریت کی کمزوریوں سے بھی پاک ہوجاتے ہیں اور خدا کی صفات ان میں آجاتی ہیں۔یہی حال کتابوں کے متعلق ہے۔ان کے منکر بھی ہیں اور قائل بھی۔فرشتوں کے متعلق اختلاف پھر فرشتوں کے متعلق اختلاف ہے بعض کہتے ہیں وہ بھی گناہ کرتے اور سزا پاتے ہیں۔بعض فرشتوں کو شہوانی خیالات میں ملوٹ کرکے کہتے ہیں کہ اب تک سز ا پارہے ہیں۔بعض ان کو مجسم قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی اور انسان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں۔بعث بعدالموت میں اختلاف اسی طرح بعث بعدالموت کا عقیدہ ہے۔بعض اس کے قائل ہیں بعض اس کے منکر۔بعض کہتے ہیں کہ انسان کی روح ہمیشہ مختلف قالب اختیار کرکے اس دنیا میں آتی رہتی ہے بعض کہتے ہیں نہیں وہ پھر یہاں نہیں آتی۔بعض کلیۃً اس کے منکر ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ انسان مرگیا بس مرگیا۔اس کے بعد کچھ نہیں بعض کو اُٹھنے کی کیفیت میں اختلاف ہے۔بعض دوزخ و جنت کو مادی مقامات خیال کرتے ہیں بعض رُوحانی۔غرض مذاہب کی کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جس میں اختلاف نہ ہو۔خدا کی ہستی سے لیکر جنت و دوزخ تک میں اختلاف ہے۔