انوارالعلوم (جلد 6) — Page 228
حضرت خلیفہ اوّل کے متعلق پیغام صلح کی غلط بیانی میں پہلے لکھ آیا ہوں کہ خفیہ طور پر شائع ہونے والے ٹریکٹوں کے جوابات کے بعد ظاہر طور پر امن ہوگیا تھا۔لیکن درحقیقت کینہ وبغض کی آگ ان لوگوں کے دلوں میں جل رہی تھی۔چنانچہ ۱۹۱۳ءکے دسمبر کے جلسہ پر اس کا اظہار ہوگیا اور وہ اس طرح کہ سالانہ جلسہ کی تقریر میں حضرت خلیفۃ المسیح نے ان گمنام طور پر شائع کردہ ٹریکٹوں کا ذکر اپنی تقریر میں کیااور اس پر اظہار نفرت کیا۔اس پر آپ کے مطلب کو بگاڑ کر پیغام صلح نے جھٹ پٹ شائع کردیا٭کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے انصار اللہ کے جواب میں شائع ہونے ولاے تریکٹوں پر اظہار نفرت کیا ہے۔اوراس سے یہ غرض تھی کہ تا ان گمنام ٹریکٹوں کا اثر پھر قائم کیا جاوے اوران کے جوابات کاا ثر ذائل کیاجائے۔حالانکہ انصار اللہ کے جوابی ٹریکت حضرت خلیفۃ المسیح کے حکم کے ماتحت آپ کو دکھانے کے بعد بلکہ آپ کی اصلاح کے بعد شائع ہوئے تھے۔چنانچہ جب سب سے آخری مرتبہ ااپ کے سامنے ان کا مسورہ پیش کیا گیا اوراس کی طبع کے متعلق اجازت طلب کی گئی تو آپ نے اس پر یہ تحریر فرمایا۔’’اخلاص سے شائع کرو۔خاکسار بھی دُعا کرے گا۔اورخود بھی دعا کرتے رہو۔کہ شریر سمجھے یا کیفر کردار کو پہنچے۔نورالدین ‘‘۔یہ تحریر اب تک ہمارے پاس موجود ہے۔پھر کیسے تعجب کی بات ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح تو ان ٹریکٹوں پر حضرت خلیفۃ المسیح کو ناراض لکھتا ہے۔اصل سبب یہی تھا کہ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح اظہار الحق کے مضمون کی طرف لوگوں کی توجہ ہو اور اس کے جواب پر لوگ بدگمان ہوجائیں لیکن اس کا یہ حربہ بھی کارگر نہیں ہوا کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح نے ۱۵ جنوری ۱۹۱۴ءکو ایک تحریر کےذریعہ شائع فرمایاکہ ’’پچھلے سال بہت سے نادانوں نے قوم میں فتنہ ڈالونا چاہا اوراظہار حق نامی اشتہار عام طور پر جماعت میں تقسیم کیاگیا۔جس میں مجھ پر بھی اعتراضات کئے گئے۔مصنف ٹریکٹ کا تو یہ منشاء ہوگا کہ اس جماعت میں تفرقہ ڈال دے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بندہ نوازی سے مجھے اور جماعت کو اس فتنہ سے بچا لیا۔‘‘ ٭ پیغام نے حضرت خلیفہ اول کے لیکچر کا خلاصہ لکھتے ہوئے لکھا۔’’ جس شخص نے اظہار الحق لکھا اورجنہوں نے کُھلی چھٹی شائع کی اورجنہوں نے خلافت پر بحث کی اور ٹریکٹ شائع کئے ان کا حق کیا تھا۔‘‘ (پیغام صلح پرچہ ۶؍جنوری ۱۹۱۴ءصفحہ ۲)