انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 227

نمبر دوم کا جواب لکھا گیا اور اس کا نام اظہار الحقیقۃ رکھا گیا۔یہ ٹریکٹ خود حضرت خلیفۃ المسیح نے دیکھے اوران میں اصلاح فرمائی۔اوریہ فقرہ بھی ایک جگہ زائد فرما دیا‘‘ ہزار ملامت پیغام پر جس نے اپنی چھٹی شائع کرکے ہمیں پیغام جنگ دیا۔اور نفاق کا بھانڈا پھوڑ دیا۔٭ان ٹریکٹوں کی اشاعت پر ہم نے چاہا کہ ان لوگوں سے بھی جن کی تائید میں یہ ٹریکٹ گمنام آدمی نے لکھنے ہیں اس کی تردید میں کچھ لکھ دیا جائے۔لیکن چونکہ ان لوگوں کے دل میں منافقت تھی اور یہ دل سے اس کی تائید میں تھے اس لئے انہوں نے بیسیوں عذروں اوربہانوں سے اس کام سے انکار کیا۔سوائے میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے کہ جنہوں نے ان سوالات کے جواب لکھ دئیے جو ان کو لکھے گئے تھے اور یہی صاحب ہیں جنکو اللہ تعالیٰ نے آخر بیعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔گمنام ٹریکٹ شائع کرنے والے نے جس مقصد سے یہ ٹریکٹ شائع کئے تھے وہ مقصد اس کا پورا ہوا یا نہیں اس کو تووہی خوب جانا ہوگا۔ہمیں ان ٹریکٹوں کی اشاعت سے یہ فائدہ ضرور ہوگیا کہ وہ باتیں جو مولوی صاحب اوران کے ساتھی خفیہ خفیہ پھیلا یا کرتے تھے ان کا علی الاعلان جواب دینے کا ہمیں موقع مل گیا اوراللہ تعالیٰ کے فضل سے نفاق کا بھانڈا پُھوٹ گیا۔اس ٹریکٹ کے بعد چند ماہ کے لئے امن ہوگیا۔مینجر پیغام اوربابو منظور الٰہی کو حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے معافی مانگنی پڑی اوربظاہر معاملہ دب گیا۔لیکن یہ لوگ اپنے کام سے غافل نہ تھے۔خواجہ صاحب کا غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت مانگنا اورنماز پڑھنا خواجہ کمال الدین صاحب نے ولایت کے حالات سے فائدہ اُٹھا کر غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت طلب کرنی شروع کی۔کیونکہ بقول ان کے وہاں کے لوگ احمدیت سے واقف نہیں اور مسلمانوں میں فرقہ بندی کا علم ان کو دینا مناسب نہ تھا۔خواجہ صاحب کی کمزوری کو دیکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے ان کو اجازت دیدی۔لیکن خواجہ صاحب نے سب سے پہلے ظفر علی خان ایڈیٹر زمیندار کے پیچھے نماز اد کی جو سخت معاندِ سلسلہ اوربگ گو آدمی ہے اور اس طرح انگلستان کو بھی وہی پوزیشن دے دی۔جو ہندوئوں کے اعتقاد میں گنگا کو ہے کہ جو ہاں گیا پاک ہوگیا۔ہندوستان میں ظفر علی خان کے پیچھے نماز پڑھنا حرام لیکن انگلستان میں قدم رکھتے ہی وہ پاک ہوجاتا ہے اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہوجاتا ہے۔*تاریخ احمدیت جلد ۴ ص ۵۱۳