انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 197

ایک مکان کی فروختگی کا معاملہ حکیم فضل الدین صاحب ایک بہت مخلص احمدی تھے اور ابتدائی لوگوں میں سے تھے۔انہوں نے اپنی جائیداد کی وصیّت بحق اشاعت اسلام کی تھی۔اس جائیداد میں ایک مکان بھی تھا۔انجمن نے اس مکان کو فروخت کرنا چاہا۔یہ مکان حکیم صاحب نے جس شخص سے خریدا تھا۔اس نے حضرت خلیفۃ المسیح سے درخواست بعض مشکلات کی وجہ سے بہت سستا ہم نے دے دیا تھا۔پس اب کچھ رعایت سے یہ مکان ہم ہی کو دے دیا جاوے۔حضرت خلیفۃ المسیح نے اس بات کو مان لیا۔انجمن کو لکھا کہ اس مکان کو رعایت سے اس کے پاس فروخت کردو۔ان لوگوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھا۔خیال کیا کہ جماعت کو جب معلوم ہوگاکہ جماعت کی ایک مملوکہ شئے کو حضرت خلیفۃ المسیح سستے داموں دلواتے ہیں۔تو سب لوگ ہم سے مل جاویں گے۔اوراس امر سے انکار کردیا۔حضرت خلیفۃ المسیح سے بہت کچھ گفتگو اوربحث کی اور کہا کہ یہ لوگ بھی نیلام میں خرید لیں۔انجمن کیوں نقصان اُٹھائے۔حضرت خلیفۃالمسیح نے بہترا ان کو سمجھایا کہ ان لوگوں نے مشکلات کے وقت بہت ہی سستے داموں پر یہ مکان دے دیا تھا۔پس ان کا حق ہے کہ ان سے کچھ رعایت کی جاوے۔مگر انہوں نے تسلیم کیا۔آخر آپ نے ناراض ہوکر لکھ دیا کہ میری طرف سے اجازت ہے۔آپ جس طرح چاہیں کریں۔میں دخل نہیں دیتا۔جب انجمن کا اجلاس ہوا مَیں بھی موجود تھا۔ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب۔حال سیکرٹری انجمن اشاعت اسلام لاہور نے میرے سامنے اس معاملہ کو اس طرح پیش کیا کہ ہم لوگ خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہیں اور ٹرسٹی ہیں۔اس معاملہ میں کیا کرنا چاہئے۔کہ کچھ رعایت کریں۔ڈاکٹر صاحب نے اس پر کہا کہ حضرت نے اجازت دے دی ہے۔جب خط سنایا گیا تو مجھے اس سے صاف ناراضگی کے آثار معلوم ہوئے اور مَیں نے کہا یہ خط تو ناراضگی پر دلالت کرتا ہے نہ کہ اجازت پر اس لئے میری رائے تو وہی ہے۔اس پر ڈاکٹر صاحب موصوف نے ایک لمبی تقریر کی۔جس میں خشیۃاللہ اورتقویٰ اللہ کی مجھے تاکید کرتے رہے مَیں نے ان کو بار بار یہی جواب دیا کہ آپ جو چاہیں کریں۔میرے نزدیک یہی رائے درست ہے چونکہ ان لوگوں کی کثرت رائے تھی۔بلکہ اس وقت مَیںا کیلا تھا۔انہوں نے اپنے مشاء کے مطابق ریزولیوشن پاس کردیا حضرت خلیفۃ المسیح کو اطلاع ہوئی۔آپ نے ان کو بلایا اور دریافت کیا۔انہوں نے جواب دیا کہ سب کے مشورہ سے یہ کام ہوا ہےاور میرا نام لیا کہ وہ بھی وہاں موجود تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے مجھے