انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 196

ہے تو بیعتِ دم۔‘‘ (اندرونی اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب صفحہ ۵۵مطبوعہ لاہور ۱۹۱۴؁ء) خفیہ مخالفت اب میَں پھر اس مضمون کی طرف آتا ہوں حضرت خلیفۃ المسیح ان لوگوں کی ان حرکات سے ناراض ہوئے اور سخت ناراض ہوئے۔ان کو دوبارہ بیعت کرنی پڑی۔لیکن جہاں وسرے لوگوں کے دل صاف ہوئے۔ان کے دلوں میں کینہ کی آگ اور بھی بھڑک اُٹھی۔صرف فرق یہ تھا کہ پہلے تو اس آگ کےشعلے کبھی اوپر بھی آجاتے تھے۔اب ان کو خاص طور پر سینہ میں ہی چھپایا جانے لگا تا کہ وقت پر ظاہر ہوں۔اور سلسلہ احمدیہ کی عمارت کو جلا کر راکھ کردیں۔مولوی محمد علی صاحب اس واقعہ کے بعد کلی طور پر ان لوگوں کے ہاتھ میں پڑگئے جو عقیدۃً سلسلہ سے علیحدہ تھے۔اوران فتنوں نے ان کو ان لوگوں کے ایسا قریب کردیا کہ آہستہ آہستہ دو تین سال کےعرصہ میں نامعلوم طور پر ان کے ساتھ متحد فی العقیدۃ ہوگئے۔خواجہ صاحب موقع شناس آدمی ہیں۔انہوں نے تو یہ رنگ اختیار کیا کہ خلافت کے متعلق عام مجالس میں تذکرہ ہی چھوڑ دیا۔اور چاہا کہ اب یہ معاملہ دبا ہی رہے تا کہ جماعت احمدیہ کے افراد آئندہ ریشہ دوانیوں کا اثر قبول کرنے کے قابل رہیں۔خلیفہ کی بجائے ’’پریذیڈنٹ‘‘کا لفظ استعمال کرنا انہوں نے سمجھ لیا کہ اگر آج اس مسئلہ پر پوری روشنی پڑی۔تو آئندہ پھر اس میں تاویلات کی گنجائش نہ رہے گی۔چنانچہ اس بات کو مدّنظر رکھ کر ظاہر میں انہوں نے خلافت کی اطاعت شروع کردی۔اوریہ تدابیر اختیار کی گئی کہ صدر انجمن احمدیہ کے معاملات میں جہاں کہیں بھی حضرت خلیفۃ المسیح کےکسی حکم کی تعمیل کرنی پڑتی وہاں کبھی حضرت خلیفۃ المسیح نہ لکھا جاتا بلکہ یہ لکھا جاتا کہ پریڈیڈنٹ صاحب نے اس معاملہ میں یو ں سفارش کی ہے۔اس لئے ایسا کیا جاتا ہے ل۔جس سے ان کی غرض یہ تھی صدرانجمن احمدیہ کے ریکارڈ سے یہ ثابت نہ ہو کہ خلیفہ کبھی انجمن کا حاکم رہا ہے۔چنانچہ حضرفت خلیفۃ المسیح کی وفات کے بعد انہوں نے اس طرح جماعت کو دھوکا دینا بھی چاہا مگرواقعات کچھ ایسے جمع ہوگئے تھے کہ مجبوراً ان کو اس پہلو کو ترک کرنا پڑا۔اوراب یہ لوگ خلافت کی بحث میں پڑتے ہی نہیں تا کہ لوگوں کو ان پرانے واقعات کی یاد تازہ نہ ہوجاوے۔اور ان کی ناجائز تدابیر آنکھوں کے سامنے آکر ان سے بدظن نہ کردیں۔غرض انہوں نے یہ کام شروع کیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی باتیں تو مانتے مگر خلیفہ کا لفظ نہ آنے دیتے۔بلکہ پریذیڈنٹ کا لفظ استعمال کرتے۔مگر خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ ان کی پردہ دری کرے۔