انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 167

شروع کے بیعت کرنے والے ہیں۔اور حضرت صاحب سے خاص تعلق رکھنے والے لوگوں میں سے ہیں اور جماعت کپورتھلہ میں شامل ہیں۔اسی طرح منشی عبدالرحمٰن صاحب کپورتھلوی اور منشی فیاض الدین صاحب کپورتھلوی ہیں۔یہ سب لوگ نہایت مخلص اورمولوی محمد احسن صاحب سے بہت پہلے کے بیعت کرنے والے ہیں۔اسی طرح پیر سراج لاحق صاحب نعمانی ہیں جو نہ صرف یہ کہ شروع کی بیعت کرنے والے ہیں بلکہ انہوں نے وقتاً فوقتاً حضرت مسیح موعود ؑکی لمبی صحبت بھی حاصل کی ہے۔بلکہ جن لوگوں کے اس وقت مَیں نے نام لکھے ہیں۔ان میں سےاکثر وہ ہیں کہ جنہوں نے مولوی سیّد محمد احسن صاحب کی نسبت حضرت مسیح موعودؑ کی لمبی صحبت پائی ہے۔پس یہ کہنا کہ سیّدصاحب حضرت مسیح موعودؑ کے سب سے پرانے صحابی ہیں درست نہیں۔سب سے پہلی کتاب جس میں حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی بیعت کرنےوالے لوگوں کے نام درج فرمائے ہیں ازالہ اوہام ہے اور جو نام اس میں درج ہیں اورجن کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کچھ رائے بھی تحریر فرمائی ہے۔ان میں سے اس وقت جو لوگ زندہ ہیں۔ان میں سے چودہ آدمی میری بیعت میں شامل ہیں۔اورکل چار آدمی مولوی صاحب کے ہم خیال ہیں۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ پُرانے صحابی میرے ہم خیال ہیں یا مولوی صاحب کے؟ سیّد سرور شاہ صاحب اور قاضی امیر حسین صاحب بھی مولوی سیّد محمد احسن صاحب سے کم نہیں ! مَیں اس امر کے تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار نہیں کہ مولوی سید محمد احسن صاحب جماعت کے سب سے بڑے عالم آدمی ہیں علم کا اس رنگ میں فیصلہ کرنا ہر شخص کے لئے آسان نہیں۔میرے نزدیک مولوی سیّد سرور شاہ صاحب اور قاضی سیّد امیر حسین صاحب کسی صورت میں مولوی سیّد محمد احسن صاحب سے کم نہیں ہیں۔بلکہ حافظ روشن علی صاحب بھی جو گو نوجوان ہیں مگر علم کے لحاظ سے پیروں میں شامل ہیں۔غرض نہ قدامت کے لحاظ سے اور نہ علم کے لحاظ سے ان کو دوسروں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل ہے کہ ان کے قول کو حجّت قرار دیاجاوے ہاں بوجہ اس کے کہ وہ عالم آدمی تھے اور کبیر السن تھے ہماری جماعت کے علماء بھی اوردیگر لوگ ان کا احترام اور عزت واجبی طور پر کرتے تھے اور مَیں تو اب بھی ان کی پہلی عزت کی وجہ سے ان کا ادب ہی کرتا ہوں اورسمجھتا ہوں کہ سیّد صاحب کو دھوکا لگا ہوا ہے۔جب اللہ چاہے گا۔اور یہ حالت بدل جاوے گی وہ پھر مرکز کی طرف رجوع کریں گے۔اللہ تعالیٰ ایسا ہی کرے۔یہ ایک عارضی ابتلاء ہے جس میں سے مَیں اُمید کرتا ہوں کہ وہ کامیاب ہوکر نکلیں گےاوراللہ تعالیٰ ان کو کَالَّتِیْ نْقَضَتْ غَزْلَھَا (النحل :۹۳) کا مصداق نہیں بنائے گا۔اللّٰھُمَّ اٰمین -