انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 157

بن عوف ؓ نے ارادہ کیا کہ وہ تو دو۲ رکعت ہی نماز پڑھیں گے۔اتنے میں ان کی ملاقات حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہوں نے حضرت عبدالرحمٰن ؓ سے پوچھا کہ کیا حضرت عثمانؓ نے کوئی نئی بات بتائی ہے۔انہوں نے کہا نہیں اور کہا میں نے تو دورکعت ہی نماز ادا کی ہے۔عبداللہ بن مسعود نے کہا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو دو رکعت ہی ثابت ہیں۔مگر مَیں نےجب سُنا کہ خلیفۂ وقت نے چار پڑھائی ہیں۔(حج میں بوجہ کثرت آدمیوں کے منیٰ میں کئی جگہ نماز ہوتی ہے۔) تو چار ہی پڑھادیں۔اور آپ بھی ایسا ہی کریں خلیفہ کا خلاف کرنا بُرا ہے۔اس پر عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے کہا کہ اچھا آئندہ میں بھی ایسا ہی کروں گا۔مگر ساتھ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں یہ لوگ ایسے چُور تھے کہ عبداللہ بن مسعود نے نماز سے فارغ ہوکر دُعا مانگی کہ خدایا میری دو۲ رکعت ہی قبول کیجؤ۔پس جب مجھے کہا گیا کہ خلیفہ وقت کا یہ حکم ہے۔تو مَیں نے اس طریق صحابہ کے مطابق عمل کیا۔اور اس حکم کو تسلیم کیا۔(گو بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حکم نہ تھا) اور جس طرح اس صحابی نے زائد رکعت کی نسبت کہا تھا کہ میری دو ہی قبول ہوں مَیں نے بھی گھر پر آکر اپنی نماز دہرالی۔پس خدا تعالیٰ نے مجھے ہر ایک سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا کی۔فالحمد للہ علی ذلک۔یہ سب کا سب واقعہ مین بار ہا بیان کرچکا ہوں اور کئی دفعہ شائع ہوچکا ہے۔مگر باوجود اس کے مولوی محمد علی صاحب لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے یہ لکھے چلے جاتے ہیں کہ وہ خود غیرا حمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ چکے ہیں اوراب لوگوں کو روکتے ہیں۔کیا ان واقعات کے علم کے بعد کوئی راست باز مجھ پر یہ اعترا ض کرسکتا ہے اور کیا اس طرح ناواقفوں کے سامنے اس معاملہ کو پیش کرنا ایک دھوکہ نہیں؟ مولوی صاحب کو یہ واقعات میرے اور میرے ساتھیوں سے ہی معلوم ہوئے ہیں۔کیا پھر جو دوسرے واقعات ہیں ان کوچھوڑ کر اسی قدر ٹکڑہ بیان کرنا دیانتداری سے بعید نہیں؟ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کا مسئلہ کفر واسلام کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کو نوٹ لکھوانا میرے کسی اعلان کی بناء پر نہ تھا اب رہا یہ امر کی حضرت خلیفۃ المسیح نے بوجہ بیماری کے مولوی محمد علی صاحب کو مسئلہ تکفیر غیر احمدیان پر جماعت کو ہدایت کرنے کا ارشاد فرمایا اورخود بھی نوٹ لکھوائے۔اس میں سے یہ بات بھی درست ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے بوجہ بیماری کے مولوی محمد علی صاحب کو مضمون لکھنے کے لئے کہا اور یہ