انوارالعلوم (جلد 6) — Page 117
لکھی گئی ہوگی۔لیکن اگر مولوی صاحب کی بات کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو مولوی صاحب بتائیں کہ اس ۱۹۱۱ء میں نکلنے والی کتاب کا علم ۱۹۰۶ء میں مجھے کیونکر ہوگیا تھا کہ اس وقت مَیں نے حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کا بڑے زور سے اعلان کیا۔یہ ۱۹۰۵ء کا واقعہ ہے جس وقت میری عمر سترہ سال کی تھی کہ مَیں نے شیخ عبدالرحیم صاحب مرحوم مالیر کوٹلوی نے،چوہدری فتح محمد صاحب ایم اے مسلم مشنری اور چند دیگر طالب علموں نے مل کر یہ تجویز کی تھی کہ سلسلہ کی خدمت اور نوجوانوں میں خدمت دین میں حصہ لینے کا جوش پیدا کرنے کے لئے ایک رسالہ جاری کیاجاوے۔اور حضرت مسیح موعودؑ کی اجازت سے آپؑہی سے نام رکھو اکر ہم نے رسالہ تشحیذ الاذہان جاری کیا۔اور دوستوں کے مشورے میں اس کا ایڈیٹر مقرر ہوا۔اس رسالہ کا پہلا نمبر یکم مارچ ۱۹۰۶ء میں شائع ہوا۔اور اس کا انٹروڈکشن جو مَیں نے لکھا ہے۔اس میں حضرت مسیح موعودؑکی نبوت کا مَیں نےذکر کیا ہے اور صاف لفظوں میں میں نے آپؑ کو نبی ظاہر کیا ہے۔اس رسالہ کے صفحہ ۱۰ پر مسیح موعودؑکا ذکر کرتےہوئے دُنیا کے لوگوں کو مخاطب کرکے مَیں نے لکھا ہے’’کیا یہ تیرا خیال ہے کہ میں کس بڑی قوم کاہوں یا میرے پاس زروجواہر ہیں یا میری قوتِ بازو بہت لوگ ہیں۔یا مَیں بہت بڑا رئیس یا بادشاہ ہوں یا بڑاذی علم آدمی ہوں۔سجادہ نشین ہوں یا فقیر ہوں۔اس لئے مجھ کو اس رسول کے ماننے کی حاجت نہیں،‘‘ پھر صفحہ ۱۱ پر اسی انٹروڈکشن میں لکھا ہے۔’’تھوڑوں نے اس کو قبول کیا اور بہتوں نے انکار کیا۔جیسا کہ پہلے نبیوں کے متعلق سنت اللہ چلی آئی ہے اب بھی ویسا ہی ہوا ،۔‘‘ ایسا ہی صفحہ ۸ پر لکھا ہے ’’غرضیکہ ہر ایک قوم ایک نبی کی منتظر ہے۔اور اس کے لئے زمانہ بھی یہی مقرر کیاجاتا ہے۔ہمارے پیارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نشانات اس نبی کی پہچان کے بتائےہیں اور اس کے پہچاننے کے لئے جو جو آسانیاں ہمارےلئےپیدا کردی ہیں۔ان سےظاہر ہوتا ہے۔کہ ہمارے رسول کریم کا مرتبہ کسقدر بلند اور بالا تھا۔‘‘ اسی طرح صفحہ ۵،۶ پر لکھا ہے۔اب یہ دیکھنا چاہئے کہ اس زمانہ میں کسی نبی کی ضرورت ہے یا نہیں۔کیا اس زمانہ کو اچھا زمانہ کہا جائے یا بُرا جہانتک دیکھا جاتا ہے اس زمانہ سے بڑھکر دنیا میں کبھی فسق وفجور کی ترقی نہیں ہوئی۔تمام دنیا ایک زبان ہوکر چلا اُٹھی ہے گناہوں کی حد ہوگئی ہے۔یہی زمانہ ہے کہ دنیا میں ایک ما ٔمور کی حد سے زیادہ ضرورت ہے‘‘ اور یہ وہ مضمون ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے اسےاسقدر پسند فرمایا کہ مسجد میںا سکے پڑھنے کی بہت سے لوگوں کو تاکید کی جن میں سےخواجہ کمال الدین صاحب بھی ہیں اور حضرت مسیح موعودؑکے سامنے بھی اس کی تعریف کی۔مگر حضرت خلیفہ اول کی تعریف شاید مولوی محمد علی صاحب کے لئے ایسی مؤثر نہ ہو۔جیسے خود ان کی اپنی تحریر میرے اس مضمون پر جو کچھ خود مولوی محمد علی صاحب نے رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں تشحیذ الاذہان پر ریویو کرتے ہوئے لکھا ہے۔وہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ اس وقت خود مولوی محمد علی صاحب کے