انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 116

جوحالات سے ناواقف ہیں معلوم ہوجائے کہ ان لوگوں میں کہاں تک صداقت کا پاس کیاجاتا ہے۔کہاں تک یہ لوگ راستی سے پیار کرتےہیں۔تاریخ اختلافِ سلسلہ کا پہلا امر اس بات کابیان کہ مسائل مختلف فیہ کا بانی ظہیر الدین نہیں ہوسکتا! سب سے پہلی بات تاریخ اختلاف کے بیان کرتے وقت مولوی صاحب نے یہ تحریر فرمائی ہے کہ ان مسائل اختلافی کا بانی ظہیر الدین ہے۔جس نے اپریل۱۹۱۱ء؁میں نبی اللہ کا ظہور کتاب لکھ کر مسئلہ نبوت مسیح موعودؑ کی بنیاد رکھی۔مگر مَیں بتانا چاہتا ہوں کہ مولوی صاحب نے اس بیان میں صریح غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ظہیر الدین کیا ہستی رکھتا ہے کہ اسے مسیح موعود کی نبوت کا بانی کہا جاوے۔کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جسوقت فرمایا تھا کہ آنے والا عیسیٰ بن مریم نبی اللہ ہوگا٭اس وقت ظہیر موجود تھا۔کیا ظہیر الدین نے یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری کئے تھے؟ کیا مسیح موعودؑ کو جو یہ الہام ہوا تھا کہ دُنیا میں ایک نبی آیا پر دُنیا نے اس کو قبول نہ کیا؟٭یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا یاظہیر الدین کی طرف سے ؟ظہیر الدین ایک حق سے دوراور صداقت سے مُعرّیٰ اور کود پسند انسان ہے۔اسے ان پاک باتوں کی طرف نسبت دینا خدا تعالیٰ کے پاک کلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنا نہیں تو اور کیا ہے ؟مَیں پوچھتا ہوں:- ھَلْ کَانَ اَحَدٌ مِّنْ الْاَحْمَدِیِّیْنَ عِنْدَرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَذَا قَضٰی بِنَبُوَّۃِ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ۔پھر خدا کیلئے اس بات کو تودیکھو کہ میں ظہیر الدین کی کتاب سے بہت پہلے حضرت مسیح موعودؑکی نبوت کا اعلان کرچکا ہوں۔اگر ظہیر الدین نے اس عقیدہ کی بناء ڈالی ہےتو میں پوچھتا ہوں کہ اس کی کتاب کے طبع ہونے سے پانچ سال پہلے حضرت مسیح موعودؑکی زندگی میں مَیں نے کیونکر اپنے مضامین میں حضرت مسیح موعود کی نبوت کا تذکرہ کردیا اور خود مولوی محمد علی صاحب نے کیونکر میرے ان مضامین کو جن میں صاف طور پر حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کا اعلان تھا پسند کیا۔اوران کو ایک نشان حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کا تذکرہ کردیا اور خود مولوی محمد علی صاحب نے کیونکر میرے ان مضامین کو جن میں صاف طور پر حضرت مسیح موعود کی نبوت کا اعلان تھا پسند کیا۔اور ان کو ایک نشان حضرت مسیح موعودؑکی صداقت کا قرار دیا۔مولوی صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کا ظہور اپریل ۱۹۱۱ء میں ختم ہوئی ہے اور لکھتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ۱۹۱۰ءکے آخر یا ۱۹۱۱ءکے ابتداء میں لکھی گئی ہوگی۔یہ کتاب چھوٹی تقطیع کے ۱۲۰ صفحوں پر ہے۔اورزیادہ سے زیادہ ایک ماہ میں *مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال وسفہ وما معہ*تذکرہ ص ۱۰۴ ایڈیشن چہارم