انوارالعلوم (جلد 6) — Page 106
جانا کہ ان ضروری باتوں کے سوا تم پر اور کچھ بوجھ نہ ڈالیں۔کہ تم بتوں کے چڑھا وؤں اور لہو اورگلا گھونٹی ہوئی چیزوں اور حرام کاری سے پرہیز کرو۔اگر تم ان چیزوں سے آپ کو بچائے رکھو گے تو خوب کرو گے سلامت رہو۔(اعمال باب ۱۵۔آیات ۲۳ تا ۳۰ نارتھ انڈیا سوسائٹی مرزا مطبوعہ ۱۸۷۰ء) اب آپ لوگ دیکھیں کہ کیا یہی طریق اور رویہ آپ لوگوں نے اختیار نہیں کیا؟ایک طرف تو آپ غیر احمدیوں کو خوش کرنےکےلئے اور اپنے ساتھ ملانے کے لئے حضرت مسیح موعود کے ذکر کو اسلام کے لئے مُضر بتارہے ہیں۔اور دوسری طرف غیر مذاہب کے لوگوں کو قابو میں لانے کے لئے خود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ گھٹانے سے بھی پرہیز نہیں کرتے۔چنانچہ خواجہ صاحب نے خود اقرار کیا ہے کہ ایک شخص نے مجھے لکھا کہ اور تو تمہاری باتیں اچھی ہیں مگر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تم مسیح سے افضل کہتےہو یہ بات اچھی نہیں اور یہ بات ہمارے راستہ میں روک بھی ہوگی۔اس پر مَیں نے اسے لکھ بھیجا کہ یہ آپ کا غلط خیال ہے ہمیں تو یہ حکم ہے کہ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ (البقرۃ:۱۳۷)ہم تو کسی نبی کو دوسرےپر فضیلت نہیں دیتے۔حالانکہ وہ جانتےتھے کہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں جو انہوں نے اس شخص کو سمجھانا چاہا اور صرف ایک شخص کو اسلام کی طرف راغب کرنے اور اپنے تعداد بڑھانے کی خاطر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہتک کی اور پھر عملاً جھٹکے کا گوشت کھا کر شریعت کے حکم کو وسیع کرلیا اور غیر احمدیوں کو پیچھے ولایت میں نماز کی اجازت توڑ مروڑ کر حضرت خلیفہ اوّل سے حاصل کی اور بہت سی باتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر قوموں کو خوش کرنے کے لئے جہاں تک بھی اسلام کی تعلیم کو وہ توڑ سکتے تھے انہوں نے توڑا۔پھر کیا مسیحیوں سے آپ کو کامل مشابہت ہوئی یا نہیں فتدبروا یا اولی الابصار۔مولوی محمد علی صاحب کا حدیث مشابہت یہود ونصاریٰ سے غلط نتیجہ نکالنا مولوی صاحب نے اپنی تائید میں ایک حدیث بھی پیش کی ہے۔جس کا یہ مضمون ہے کہ مسلمان بھی یہود و نصاریٰ کی پیروی کریں گے اور اس سے یہ نتیجہ نکلالا ہے کہ مسیح کا انکار کرکے وہ یہود تو ہوگئے۔اب نصاریٰ بننے کے لئے ان کو نصاریٰ کا رنگ بھی اختیار کرنا چاہئے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد آپ کی جماعت کا ایک بڑ ا حسہ آپ کے درجہ میں غلو کرنے لگا۔لیکن گو ایک رنگ میں بوجہ مسیح سے مشابہت رکھنے کے حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت میں سے بھی بعض لوگ مسیحیوں سے مشابہ ہوئے۔مگر اس حدیث کا یہ مطلب نہ تھا بلکہ حضرت مسیح موعود ؑ نے بیان فرمایا ہے یہود بننے سے مراد مسیح کا انکار تھا اور ضالّ بننے سےفی الواقع عیسائی ہوجانا۔یہ حدیث