انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 104

معنے تھے۔اورآپ نے بھی باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود ؑنے فرمایا تھا کہ آپ انہی معنوں کی رو سے نبی ہیں جن معنوں کی رو سے پہلے نبی نبی کہلائے۔جیسا کہ ان دونوں حوالوں سے جواوپرگزرگئے ظاہر ہے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ نہیں پہلے نبی اور معنوں سے نبی تھے اور حضرت مسیح موعودؑاور معنوں کی رو سے۔فرق صرف اس قدر ہے کہ پہلوں نے معنے بدلتے وقت مسیح کی وفاداری کو ترک نہ کیا اور حد سے زیادہ محبت سے کام لیا اور اپنے استاد کے درجہ کو اصل درجہ سے بڑھا دیا۔آپ نے حد درجہ کے بغض سے کام لے کر اپنے استاد کے اصل درجہ سے اس کو گرایا دیا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ وہ اس کے درجہ کو بڑھا سے نہ آپ اس مسیح کے درجہ کو گھٹا سکے ہیں۔مولوی محمد علی صاحب کے رفقاء کی مشابہت عیسائیوں سے مسیحیوں سے آپ کی مشابہت کے متعلق مَیں دو اُمور اور بھی لکھتا ہوں۔ایک تو آپ کی اپنی شہادت ہے اور ایک انجیل کی شہادت ہے۔آپ کی اپنی شہادت یہ ہے کہ ۱۹۰۹؁ءمیں دسمبر کے ایّام میں لاہور میں ایک جلسہ احمدیہ جماعت کی طرف سے بعض مسیحی واعظوں کے لیکچروں کی تردید میں ہوا تھا اس میں میرا بھی لیکچر تھا آپکا بھی تھا۔اور خواجہ کمال الدین صاحب کا بھی تھا۔آپ کا لیکچر ’’فضیلت مسیح ازروئے قرآن‘‘ پر تھا۔اور اس میں ایک پادری کے اس اعتراض کا جواب تھا کہ قرآنِ کریم سے حضرت مسیح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ثابت ہوتے ہیں۔میرا مضمون ’’نجات‘‘ پر تھا کہ اسلام اور مسیحیت دونوں میں سے نجات کے متعلق صحیح تعلیم کس نے دی ہے۔خواجہ صاحب کا مضمون غالباً’’قرآن کریم اور دیگر کُتب مقدسہ کے مقابلہ‘‘ پر تھا۔میرے اور خواجہ صاحب کے لیکچر آپ سے پہلے تھے۔اور دو مواقع پر آپ کو ہمارے لیکچروں کی طرف اشارہ کرنا پڑا تھا۔مسیحیوں کے اس اعتراض کا جواب دیتے وقت کہ يُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَہْدِ وَكَھلًا (آلِ عمران :۴۷)سے حضرت مسیح ؑکی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔آپ نے میری مثال کو پیش کیا تھا کہ ان کی عمر کُل بیس سال کی ہے اور دیکھو کہ انہوں نے کیسے عجیب نکات بیان کئے ہیں۔ابھی ان کا کھیل کو دکا زمانہ ہے۔اس وقت ان کی یہ تقریر يُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَھدِ ہی ہے۔ایسا ہی مسیح کرتے تھے اسی طرح آپ نے مجھے تو مسیحؑ سے مشابہت دی تھی۔گو اب ان کے بگڑے ہوئے پیروؤں سے مشابہت دیتے ہیں۔لیکن خواجہ صاحب کا ذکرکرتے وقت بے اختیار آپ کےمنہ سے یہ الفاظ نکلے کہ جیسا کہ ابھی ہماری جماعت کے پولوس خواجہ صاحب نے کہا ہے۔یہ فقرہ آپ کے منہ سے نکلنا تھا کہ مجلس میں سناٹا آگیا اور آپ نے بھی خواجہ صاحب کی طرف منہ کرکے اپنے دانتوں میں انگلی دے دی۔کیا آپ حلفیہ اس واقعہ سے انکار کرسکتے ہیں؟ علاوہ میرے کئی