انوارالعلوم (جلد 5) — Page 61
انوار العلوم جلد ۵ صداقت پھر کی مذہب کا ہو وہ سب کا رب ہے۔حتی کہ حیوانوں اور پرندوں کا بھی رب ہے۔حیوانوں کے متعلق خدا تعالیٰ کی ربوبیت کو اگر دیکھا جائے تو عجیب نظارہ نظر آتا ہے۔دیکھو انسان بیلوں سے ہل چلاتا ہے اور کھیت ہوتا ہے۔اس کے نتیجہ میں اگر انسان کو کھیت میں سے صرف دانے ہی حاصل ہوتے تو وہ بیلوں وغیرہ کو کھانے کے لئے غلہ نہ دیتا اس لئے دانوں کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے توڑی رکھ دی ہے کہ یہ ان کا حصہ ہے جو انسان کے ساتھ کام کرنے والے تھے۔تو خدا تعالے نے ہرا ایک مخلوق کا حصہ رکھا ہوا ہے اور اس کو رزق پہنچاتا ہے۔حتی کہ ایسی جگہ جہاں انسان کے خیال میں بھی نہیں آسکتا کہ کس طرح رزق پہنچ سکتا ہے۔یعنی زمین کے نیچے یا سمندر کے اندر وہاں بھی جو مخلوق ہے اس کے لئے خدا تعالیٰ نے وہیں خوراک رکھی ہوئی ہے۔تو فرمایا اللہ ایسا ہے جو تمام کے تمام جانداروں پر احسان کرنے والا ہے۔پھر احسان تین قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو زمانہ ماضی میں کیا گیا ہو۔دوسرا وہ جو زمانہ حال میں کیا جائے۔تیسرا وہ جو زمانہ آئندہ میں کیا جانے والا ہو۔اور دنیا میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی قدیم احسان کا خاص لحاظ کرتے ہیں۔کئی ایسے ہوتے ہیں جو حال کے احسان کی قدر کرتے ہیں اور کئی ایسے ہوتے ہیں کہ آئندہ ہونے والے احسان کو بڑا سمجھتے ہیں۔یہاں خدا تعالیٰ نے ان تینوں قسم کے لوگوں کے متعلق فرمایا۔خدا رتب العلمین ہے۔یعنی فطرتیں جو زمانہ ماضی کے احسان کو یاد رکھنے والی ہیں ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان پر وہی خدا احسان کر رہا ہے۔اور جو آئندہ کے احسان کا خیال رکھتی ہیں انکو بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ان پر بھی خدا ہی احسان کرے گا۔اس لئے وہی ایک ایسی ذات ہے جس سے محبت کرنی چاہئے۔پھر جب خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے ماتحت انسان کی تکمیل ہو جاتی ہے اور وہ کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے تو جس طرح ماں باپ جو ان بچہ کو کام پر لگانے کے لئے اس کو سامان مہیا کر دیتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ بھی کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے کہ جب انسان کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے تو اس وقت یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ محض اپنے فضل سے بغیر اس کی محنت اور کوشش سے کام کرنے کے اسباب عطا کرتا ہے۔اس بات سے اسلام کی دوسرے مذاہب پر بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ بعض مذاہب والے ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ نجات صرف ہمارے ہی مذہب میں ہے مگر کوئی اور اس میں داخل نہیں ہو سکتا۔لیکن قرآن شریف ایسا نہیں کہتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ خدا تمام لوگوں کا رب ہے اور اس نے جو مذہب لوگوں کے نجات پانے کے لئے بھیجا ہے اس کا دروازہ ہر ایک کے لئے کھلا ہے پھر اسلام اس خدا کو پیش کرتا ہے جو رحمانیت کی صفت بھی رکھتا ہے۔یعنی وہ صرف