انوارالعلوم (جلد 5) — Page 60
انوار العلوم جلد ۵ صداقت اسلام سورۃ فاتحہ کی لطیف تفسیر سورہ فاتحہ میں ان دونوں باتوں کو دیا گیا ہے اور اس میں ایسے اصول بیان کئے گئے ہیں کہ ممکن نہیں اگر انسان ان پر عمل کرے تو خدا تعالیٰ سے اس کا تعلق نہ پیدا ہو۔چنانچہ فرماتا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ سُبْ تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔اللہ نام ہے خدا کا اور اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہستی جس میں کوئی نقص نہیں اور تمام خوبیوں کی جامع ہے۔دُنیا میں لوگ ایسی چیزوں سے محبت کرتے ہیں جو سب خوبیوں سے متصف نہیں ہوتیں اور ایسی نہیں ہوتیں کہ ان میں کسی قسم کا نقص نہ پایا جاتا ہو مثلاً عورتوں پر عاشق ہوتے ہیں لیکن یہ نہیں ہوتا کہ جس عورت پر کوئی عاشق ہوتا ہے وہ دُنیا کے سارے حسن کی جامع ہوتی ہے۔قصہ مشہور ہے کہ لیٹی کو دیکھ کر کسی نے مجنوں کو کہا تھا کہ وہ تو کوئی خوبصورت نہیں تم کیوں عاشق ہو ؟ مجنوں نے کہا بیٹی کو میری آنکھ سے دیکھنا چاہئے۔اسی لئے کہا جاتا ہے۔لیلی را بچشم مجنوں بائد دید - تو کوئی عورت ایسی نہیں ہو سکتی ہو تمام حسن کی جامع ہو اور نہ ہی کوئی اور چیز ایسی ہو سکتی ہے جس میں کوئی نقص نہ پایا جاتا ہو۔مگر خدا ایسا ہے کہ تمام خوبیوں کا جامع ہے اور تمام نقصوں سے پاک ہے۔اسی لئے فرمایا کہ اللہ ہی وہ ہستی ہے جو تمام خوبیوں کی جامع ہے۔ہم چاند کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور خوش نا پہاڑوں کو دیکھ کر مسرت حاصل کرتے ہیں مگر اس لئے نہیں کہ وہ ہمیں کچھ دیتے ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ اپنی ذات میں اچھے لگتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلحَمدُ للہ۔اسے انسان اگر تو ان لوگوں میں سے ہے جو چیز کی ذاتی خوبی کی وجہ سے اس سے محبت کرتے ہیں تو آئیں تجھے بتاؤں کہ اسلام وہ خدا د کھاتا ہے جو تمام نقصوں سے پاک اور تمام خوبیوں کا جامع ہے۔لیکن چونکہ تمام فطرتیں ایسی نہیں ہو تیں کہ صرف یہ جان کر کسی چیز سے محبت کریں کہ وہ اپنی ذات میں اچھی ہے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمیں فائدہ بھی پہنچائے گو یہ گری ہوئی فطرت کے انسان 09 ہوتے ہیں ان کے متعلق فرماتا ہے۔اَلحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے حسن کے علاوہ تم پر احسان بھی کرے تو آؤ تمہیں بتائیں خدا وہ ہے کہ جو تمہیں پیدا کرتا اور پھر ادنی اور گری ہوئی حالت سے ترقی دے کر اعلی درجہ پر پہنچاتا ہے مثلاً انسان کے جسم کا کوئی حصہ گیوں سے بنتا ہے کوئی چنے سے کوئی جو سے یا اور وہ چیزیں جو انسان کھاتا ہے ان سے ایک مادہ بنتا ہے اور اس کا آگے انسان تیار ہو کر صفحہ دنیا پر آجاتا اور بڑے بڑے کام کرتا ہے۔یہ سب خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے ہی کھیل ہیں۔تو فرمایا۔اللہ تمہارا رب اور تمہارا محسن ہے۔پھر ایک دو کا نہیں بلکہ رب العالمین سب کا ہے۔خواہ کوئی یورپ کا رہنے والا ہو یا افریقہ کا یا امریکہ کا۔