انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 568

انوار العلوم چند ۵ ۵۶۸ ہدایات زرین آدمیوں کے لئے مفید ہوتی ہے تو سینکڑوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔وہ بعض اور قسم کے دلائل کے محتاج ہوتے ہیں پس مبلغ کے لئے ایک نہ ختم ہونے والے خزانہ کی ضرورت ہوتی ہے۔تو بعض لوگوں کے خیالات بالکل محدود ہوتے ہیں۔وہ ایک دلیل کو لے لیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ یہ ایسی دلیل ہے کہ اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا اور یہ سب کے لئے کافی ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔پھر یا ایسے لوگوں کی مثال ان بچوں کی سی ہے جو گاؤں میں رہتے ہیں اور ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ بیریوں کے درختوں کے سرے سے بیر کھا چھوڑے یا جانوروں کے لئے چارہ لے آئے یا جانوروں کو باہر چرالائے۔انہوں نے نہ کبھی کوئی شہر دیکھا ہوتا ہے نہ ریل اور تار سے واقف ہوتے ہیں اور جب کوئی ان کے متعلق انہیں باتیں سناتا ہے تو وہ اس طرح سنتے ہیں جس طرح کہانیاں سنی جاتی ہیں۔اس سے زیادہ دلچسپی ان کو نہیں ہوتی اور نہ کوئی اثر ان پر پڑتا ہے۔ان بچوں میں سے بہت کم ایسے ہوتے ہیں جن کے قلب پر یہ اثر پڑتا ہے کہ جب ہم بڑے ہوں گے تو ان چیزوں کو دیکھیں گے ورنہ سب ان باتوں کو سن کر اسی طرح مطمئن ہو جاتے ہیں جس طرح قصوں اور کہانیوں کو سننے کے وقت ہوتے ہیں۔کہانیاں سن کر انہیں کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ جن باتوں کا ان میں ذکر ہے ان کو ہم دیکھیں اور معلوم کریں۔یہی حال طالب علموں کا ہوتا ہے۔اور ایسے ہی لوگوں کا جن کے خیال وسیع نہیں ہوتے وہ سمجھتے ہیں کہ صرف ایک نکتہ سے وہ سب مباحثات میں فتح پائیں گے۔وہ حیران ہوتے ہیں کہ دشمن کی فلاں دلیل کو توڑنا کون سی مشکل بات ہے۔ہما ر ہے استاد نے یا فلاں مولوی صاحب نے جو بات بتائی ہے اس سے فوراً اسے رد کیا جا سکتا ہے۔اور دشمن کو اپنی بات منوانے کے لئے مجبور کیا جا سکتا ہے۔وہ یہ سمجھتے ہی نہیں کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ جو ایک غلط اور نا درست بات بھی ایسے طور پر پیش کر سکتے ہیں کہ عوام کو درست ہی معلوم ہو یا ایک ایک بات میں اعتراض کے کئی ایسے پیلو نکالے جا سکتے ہیں جن کی طرف پہلے ان کا خیال بھی نہیں گیا ہوتا۔دوسری قسم دوسرا گروہ وہ ہے جس کی نظر تو محدود نہیں ہے وہ دنیا میں پھرے ہیں لوگوں سے ملے ہیں مخالفین کے اعتراضات سننے کا انہیں موقع ملا ہے مگر ان کی نظر کی وسعت عرض کے لحاظ سے ہے عمق کے لحاظ سے نہیں۔میں نے عورتوں کو کئی دفعہ بڑی حیرت سے یہ کہتے سنا ہے کہ لوگ خدا کا انکار کس طرح کرسکتے ہیں بھلا خدا کی ہستی کا بھی انکار کیا جا سکتا ہے ، مگر ان کو دنیا کا علم نہیں ہوتا اور وہ نہیں جانتیں کہ دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جو حیرت سے پوچھتے ہیں کہ دنیا خدا کو مانتی کیوں ہے ؟ بھلا اس کے ماننے کے