انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 550

انوار العلوم جلد ۵ ۵۵۰ خواہش نہ ہو گی اس لئے جب دے دے گا تو پھر اس کو ملال پیدا ہو گا اور جب ملال پیدا ہو گا تو اس پر شیطان کا قبضہ ہو جائے گا جو اسے بالکل گمراہ کر دے گا۔پس شیطانی تحریک کی یہ صورت ہوگی کہ وہ معجلت کی طرف لے جائے گا اور میدم بہت زیادہ بوجھ رکھ دے گا۔پہلے تو یہ تحریک کرے گا کہ آج ہی تو خدا سے مل جا جب یہ بات حاصل نہ ہوگی تو انسان کے دل میں مایوسی پیدا کر دے گا۔کئی لوگ ہوتے ہیں جو ہفتہ بھر نمازیں پڑھ کر کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں تو خدا نہیں ملا۔اور بہت ایسے ہوتے ہیں جو چند دن نمازیں پڑھ کر خواہش کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں میں حالانکہ یہ سب شیطانی وسوسے ہوتے ہیں۔جب انسان خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے قابل بن جائے گا تب دیکھ سکے گا۔یونی کسی طرح دیکھ لے تو اس قسم کی عجلت شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب انسان کو وہ بات حاصل نہیں ہوتی جس کی اسے اُمید ہوتی ہے تو مایوس ہو جاتا ہے اور پھر بالکل چھوڑ چھاڑ کر علیحدہ ہو جاتا ہے۔چوتھا فرق یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایسا امر جس میں مشتبہ باتیں بھی ہوں۔یعنی جن کے متعلق خیال ہو کہ ممکن ہے اچھی ہوں اور ممکن ہے بُری ہوں۔اس کے متعلق جب ملائکہ کی طرف سے تحریک ہوگی تو اس طرح ہوگی کہ مشتبہ باتوں کو چھوڑ دیا جائے اور ان کو عمل میں نہ لایا جائے لیکن شیطانی تحریک اس طرح ہوگی کہ ان کے کرنے میں حرج کیا ہے کر لی جائیں۔اس طرح ان پر وہ عمل کرا لیتا ہے اور جب ان پر عمل کرا لیتا ہے تو اس کو مقام قرار دے دیتا ہے اور اس سے اگلی باتوں کو حد ٹھہرا دیا ہے۔پھر اس سے آگے چلاتا ہے اور حد پر عمل کرا کر اسے مقام بنا دیتا ہے۔اسی طرح 13" آگے ہی آگے چلاتا جاتا ہے اور بڑی بڑی بدیاں کر لیتا ہے۔پھر ایک اور بھی فرق ہے۔اور وہ یہ کہ ملکی تحریک وہ ہوتی ہے کہ جس میں انسان جب مشغول ہو تو اس میں ترقی دی جاتی ہے۔مثلاً نماز میں مشغول ہو تو اور عمدگی سے پڑھنے کی تحریک ہوگی مگر شیطانی تحریک یہ ہوگی کہ جس میں انسان مشغول ہوگا وہ چھڑا کر دوسری پر عمل کرایا جائے گا غرض اس سے شیطان کی یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ ایک شخص نیکی کا کام کر رہا ہے۔یہ تو اس سے چھپڑاؤ۔اور جب اس کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرے گا تو پھر اس کو دیکھا جائے گا۔چھٹا فرق یہ ہوتا ہے کہ شیطانی تحریک کبھی اس قسم کی ہوتی ہے کہ انسان پر دوسرے کے عیبوں اور نقصوں کو ظاہر کیا جاتا ہے۔مگر ملک کی تحریک والا شخص دوسرے کے متعلق نیک ہی خیال کریگا