انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 546

انوار العلوم جلد ۵ ۵۴۶ ملائكة الله وہ اسے ترک کر دے تو گنا ہوگا رنہ ہو گا۔چنانچہ قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- و ان تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُمُ بِهِ الله (البقرة : ۲۰۵) تمہارے دل میں جو کچھ ہے تم اسے چھپا رکھو یاک ہر کرو۔تم سے خدا حساب لے گا۔اس میں بتایا تر ہے کہ یہ نہیں کہ کوئی خیال پیدا ہونے پر سزادی جائے گی بلکہ اگر اسے دل میں محفوظ رکھ چھوڑو گے یا پھیلاؤ گے تو تمہارا محاسبہ ہو گا۔نہیں شیطانی تحریک کو ظلم نہیں کہا جاسکتا۔کیونکہ اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔ایسی تحریک ہزار بار ہو اگر انسان اسے نہیں مانتا تو گنہگار نہیں ہوگا بلکہ اسے ثواب ا ہوتا رہے گا۔اب یہ سوال ہے کہ تحریک شیطان کی ہوتی کس طرح ہے ؟ اور کس رنگ میں شیطان تحریک کرتا ہے، سو یاد رکھنا چاہئے کہ جو انسان نیک ہوتا ہے اور جس نے اپنے آپ کو شیطان کے قبضہ میں نہیں دیا ہوتا بلکہ اس کا تعلق ملائکہ سے ہی ہوتا ہے اس کو شیطان نیک تحریکات کے ذریعہ ہی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہاں جب وہ شیطان کے قبضہ میں چلا جاتا ہے تب بڑی تحریکوں کے ذریعہ گراہ کرتا ہے۔اس کی تشریح میں آگے چل کر کروں گا۔اس وقت اتنا بتاتا ہوں کہ شیطان کی تحریک کی دو شاخیں ہوتی ہیں۔ایک نیکی کی اور دوسری بدی کی۔اس کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب شیطان بھی نیکی کی تحریک کرتا ہے۔تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ انسان اس کی تحریکوں سے بچے ؟ ممکن ہے انسان ایک نیک کام کرے مگر شیطان اس سے کرا رہا ہو۔جب بُرا کام ہو تب تو معلوم ہو سکتا ہے کہ شیطانی ہے۔لیکن یہ کیونکر معلوم ہو کہ ایک نیک کام بھی شیطان کی تحریک کے ماتحت ہو سکتا ہے۔اس کے لئے میں موازنہ کر کے بتاتا ہوں کہ فرشتے اور شیطان کی تحریک میں کیا امتیازات ہوتے ہیں۔اوّل یہ بات یاد رکھو کہ فرشتے کی طرف سے وہی تحریک ہوگی جس کا نتیجہ نیک ہو گا بعض دفعہ ایک تحریک بظاہر نیک معلوم ہوتی ہے لیکن اس کا نتیجہ بد ہوتا ہے اور بعض دفعہ نیک تحریک ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ بھی نیک ہوتا ہے۔پس جب کسی تحریک پر عمل کرنے لگو تو سوچ لو کہ اس کا نتیجہ تو بد نہیں ہوگا۔مثلاً نیکی کی تحریک ہوئی کہ فلاں بھائی نماز نہیں پڑھتا اس کو سمجھائیں۔مگر جب سمجھانے گئے تو اس کا طریق یہ اختیار کیا کہ جہاں بہت سے آدمی بیٹھے تھے وہاں اسے کہہ دیا کہ تو نماز نہیں پڑھنا اس لئے منافق ہے اس منافقت کو چھوڑ دے۔یہ تحریک تو نیک تھی لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اتنے آدمیوں کے سامنے جو اس کو اس طرح کہا جائے گا تو وہ نماز کا ہی انکار کر دے گا۔