انوارالعلوم (جلد 5) — Page 545
انوارالعلوم جلد ۵ ۵۴۵ ملائكة الله دوسرا ذریعہ ملک کے تحریک کرنے کا یہ ہے کہ علم ی زیادتی کرتا رہتا ہے۔اس سے انسان کو نیکی کرنے کی تحریکیں پیدا ہوتی رہتی ہیں کہ یہ بھی نیکی ہے اسے کر لوں۔یہ بھی نیکی ہے اس کو ٹل میں لے آؤں۔مگر اصل منبع نیکی کا قلب ہی ہوتا ہے اسی پر ملک روشنی اور ہر تو ڈالتا ہے اور اس کا کامران تحریکوں پر چلانا ہوتا ہے یعنی ملائکہ خود انسان سے نیکی نہیں کراتے بلکہ نیکی کرانے کے لئے آسانی پیدا کرتے رہتے ہیں۔اس کی مثال یہ ہے کہ مثلاً ایک معزز شخص بہت سے لوگوں میں سے گزرے اور وہ لوگ اس کو آگے سے رستہ دیتے جائیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگ اسے چلاتے ہیں۔چلتا تو وہ خود ہے ہاں اس کے چلنے میں وہ لوگ آسانی پیدا کر دیتے ہیں۔فرشتے بھی انسان کے لئے ایسے ذرائع پیدا کرتے ہیں کہ وہ بآسانی نیکی کر سکے۔اسی طرح شیطان یہ نہیں کرتا کہ کسی سے جبراً کوئی برائی کراتا ہے بلکہ جب کوئی شخص ایک برائی کا ارہا ہے کر لیتا ہے تو شیطان اس کے سامنے دوسری رکھ دیتا ہے اور جب دوسری کر لیتا ہے گو تیری۔اسی طرح آگے آگے چلاتا جاتا ہے۔مثلاً چلتے چلتے کسی کو خیال پیدا ہوا کہ چوری کروں۔اس خیال کے آنے پر شیطان نے اس کی توجہ اس طرف پھر دی کہ فلاں شخص مالدار ہے۔گویا شیطان کا اتنا ہی کام ہے کہ مشورہ دے یہ نہیں کہ قلب پر قبضہ پائے۔اس لئے جو نیکی یا بدی انسان کرتا ہے وہ اس کا اپنا ہی فعل ہوتا ہے۔ملک یا شیطان صرف تحریک کر دیتا ہے۔۔۔تیسرا ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ رشتہ انسان کو اسی جگہ نے جاتا ہے جہاں نیکی کی تحریک پیدا ہوسکے آگے اس تحریک کا حاصل کرنا انسان کے دل کا کام ہوتا ہے۔اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔اور وہ یہ کہ جب انسان کو ملائکہ یا شیطان کی طرف سے مدد آتی ہے۔نیک باتیں فرشتہ سمجھاتا ہے اور بُری باتیں شیطان۔تو پھر برائی کرنے میں انسان کا گناہ کیا ہوا۔مان لیا کہ برائی انسان نے کی مگر شیطان نے بھی تو اس میں امداد دی۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ شیطان کی تحریک پیدا ہونے پر انسان کو گناہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے دہانے اور اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں اسے ثواب ہوتا ہے۔ہاں اگر اس پر عمل کرے تو پھر گناہ ہوتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور آکر کہا میرے دل میں ایسے ایسے بڑے خیال آتے ہیں کہ زبان کٹ جائے۔انہیں بیان کرنے کو دل نہیں چاہتا۔فرمایا یہی بات ہے جو نور ایمان ہے۔تو شیطانی تحریک جو ہے وہ خود گناہ نہیں ہوتی۔اگر انسان کے دل میں کوئی وسوسہ پیدا ہو اور