انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 519

انوار العلوم جلد ۵ ۵۱۹ ملائكة الله شاندار بناتا اور اس سلسلہ کو جو اس کا وجود ظاہر کرتا ہے بالکل محدود کر دیتا۔پس اسباب کی احتیاج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ہر چیز کا نیا میں میں سب نظر آتا ہے پھر اس بات کو کس طرح مان لیں کہ وہ فرشتوں کے ذریعہ ہوتی ہیں، مثلاً آندھی آتی ہے اس کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ جب جو میں بعض خاص قسم کے تغیرات ہوں تو آتی ہے۔یا بادل آتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ سورج کے ذریعہ پانی کے بخارات اُٹھتے ہیں اور وہی برستے ہیں۔یہ کسی طرح مان لیں کہ فرشتوں کے ذریعہ ایسا ہوتا ہے ؟ یہ جہالت کی باتیں ہیں اور اُس زمانہ کی ہیں جب کہا جاتا تھا کہ فرشتہ سمندر سے پانی پی کر آتا ہے اور پھر اگر بارش برساتا ہے اس قسم کی باتیں اب علم اور تحقیقات کے زمانہ میں کون مان سکتا ہے ؟ مگر اس اعتراض کے نپیش کرنے والوں نے فرشتوں کے متعلق جو صحیح عقیدہ ہے۔اس کو سمجھا نہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ بارش برسنے کا قریبی سبدب فرشتہ ہے اور فرشتہ سمندر سے پانی لاکر برساتا ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ان بخارات کو قائم کرنے والا فرشتہ ہے جن سے بارش بنتی ہے۔ہم تو آخری سبب کو فرشتہ کہتے ہیں نہ یہ کہ کوئی اور سبب ہی نہیں ہوتا۔ہر چیز کے سبب ہیں مگر سیب اسباب کے آخر میں فرشتہ کام کر رہا ہوتا ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ مختلف تغیرات اسباب کے ماتحت ہوتے ہیں اور ایک سبب کے پیچھے دوسرا ، دوسرے کے پیچھے میرا بھی کہ سینکڑوں لیے سبب بھی ہوں گے جن کو دنیا جانتی بھی نہیں۔مگر سب کے پیچھے فرشتہ ہو گا۔درمیانی اسباب خواہ کروڑوں ہوں ہم ان کا انکار نہیں کرتے لیکن سب کے آخر میں فرشتہ مانتے ہیں۔پو تھا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جو تغیرات ہوتے ہیں۔وہ مقررہ قانون کے ماتحت ہوتے ہیں مثلاً کسی کو تپ چڑھتا ہے اگر تپ چڑھانے والا فرشتہ ہے تو کو نہیں دینے سے کیوں اتر جاتا ہے؟ اور جب علاج سے مرض دُور ہو جاتی ہے تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ فرشتے نے آپ چڑھایا ؟ اسی طرح اگر کھانسی فرشتہ لگاتا ہے۔تو دوائی دینے سے کیوں دور ہو جاتی ہے ؟ کیا اس وقت فرشتہ بھاگ جاتا ہے ؟ یہ اعتراض بھی جاہلانہ ہے کیونکہ ہم یہ نہیں کہتے کہ فرشتے کوئی قادر مطلق ہی ہیں بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ فرشتے خواص الاشیاء کو ظاہر کر تے ہیں۔جب کوئی شخص ان اشیاء کو استعمال کرتا ہے جن کے نتیجہ میں تپ چڑھایا جانا مقدر ہے تو جو فرشتہ ان اشیاء کے خواص کے ظہور کے ابتدائی انساب