انوارالعلوم (جلد 5) — Page 507
انوار العلوم جلد ۵ ۵۰۷ ملاكمة الله گئے ہوں۔میں سمجھتا ہوں یہ اسی علم کی وجہ ہے جو مجھے سکھایا گیا۔ایک دفعہ مجھے اس علم کا خاص طور پر تجربہ ہوا۔ہمارے سکول کی ٹیم امرتسر کھیلنے کے لئے گئی میں اس وقت اگر چہ سکول سے نکل آیا تھا لیکن مدرسہ سے تعلق تھا کیونکہ میں بی نیا نکلا تھا اس لئے میں بھی ساتھ گیا۔وہاں ہمارے لڑکے جیت گئے اس کے بعد وہاں مسلمانوں نے ایک جلسہ کیا اور مجھے تقریر کرنے کے لئے کہا گیا۔جب ہم اس جلسہ میں گئے تو راستہ میں میں ساتھیوں کو سناتا جار ہا تھا کہ خداتعالی کا میرے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ جب بھی میں سورۃ فاتحہ پر تقریر کروں گا نے نکات سمجھائے جائیں گے۔جلسہ میں پہنچ کر جب میں تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو کوئی آیت سوائے سورۃ فاتحہ کے میری زبان پر ہی نہ آئے۔آخر میں نے خیال کیا کہ میرا امتحان ہونے لگا ہے اور مجھے مجبوراً سورۃ فاتحہ پڑھنی پڑی اس کے متعلق کوئی بات میرے ذہن میں نہ تھی۔میں نے یونسی پڑھی لیکن پڑھنے کے بعد فوراً میرے دل نہیں ایک نیا نکتہ ڈالا گیا اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب سورۃ فاتحہ اُتری ہے اس وقت آپ کے مخاطب کفار تھے۔یہودی اور عیسائی نہ تھے مگر دعا اس میں یہ سکھائی گئی ہے کہ ہمیں یہودی اور عیسائی بننے سے بچا کہ ہم ان کی طرح نہ نہیں۔حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ جو سامنے تھے ان کے متعلق دعا سکھائی جاتی کہ ہم ان کی طرح نہ نہیں۔اس میں یہ نکتہ ہے کہ مشرکین نے چونکہ تباہ و برباد ہو جانا تھا اور بالکل مٹائے جانا تھا اس لئے ان کے متعلقی دُعا کی ضرورت نہ تھی۔لیکن عیسائیوں اور سیودیوں نے چونکہ قیامت تک رہنا تھا اس لئے ان کے متعلق دعا سکھائی گئی۔یہ نکتہ معاً مجھے سمجھایا گیا اور میں نے خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا کہ اس موقع پر اس نے میری آبرو رکھ لی۔تو یہ علم جو خدا تعالیٰ کی طرف سے سکھایا جاتا ہے۔ہمیشہ ضرورت کے وقت کام آتا ہے اور اسکے یاد نہ رہنے میں یہ حکمت ہے کہ اگر بات یا د رہتی تو ایک ہی دفعہ کے لئے وہ ہوتی۔مگر اس طرح یہ علم ہمیشہ کام آتا ہے۔اب کبھی کوئی اعتراض کرے اور کوئی حافظ نہ ہو جس سے قرآن کی کوئی اور آیت پوچھی جا سکے تو خدا تعالیٰ سورۃ فاتحہ سے ہی مجھے اس کا جواب سمجھا دیتا ہے۔تو سمادی علوم میں برکت ہوتی ہے کہ جب ضرورت پڑے ان سے کام لیا جا سکتا ہے۔پس ملائکہ کے ذریعے علوم سکھائے جاتے ہیں محی الدین ابن عربی فتوحات مکیہ میں لکھتے ہں کہ مجھے بہت سے علوم ماینکر نے سکھائے ہیں (فتوحات مکیہ جلد امت مطبوعہ مصری صوفیاء میں سے بھی ہیں جنہوں نے مولانا کے متعلق بحث کی ہے۔اگر چہ ان کی محبت حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں دسواں حصہ بھی نہیں ہے۔